امریکہ: معمر راہبہ کو تین برس قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سسٹر میگن کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کا واحد پچھتاوا یہ ہوگا کہ انہوں نے اس اقدام میں بہت دیر کر دی

امریکہ میں ایک معمر کیتھولک راہبہ کو ایک امریکی جوہری دفاعی سائٹ میں داخل ہونے کے باعث ہونے والے نقصان کے الزام میں تقریباً تین برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

84 سالہ امن کارکن سسٹر میگن رائس نے دو مزید مظاہرین کے ساتھ مل کر عمارت کے گرد موجود حفاظتی باڑ کاٹی اور اندر چلی گئیں۔

’اوک رِج ٹینیسی‘ نامی اس سائٹ میں یورینیئم افزودہ اور ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

دیگر دو مظاہرین مائیکل والی اور گریگ کو پانچ سے زائد قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

یہ تینوں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ سسٹر میگن کا موقف ہے امریکہ کا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی ہے۔

جولائی 2012 میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد Y-12سائٹ پر سکیورٹی انتظامات میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

منگل کو عدالت میں پیشی کے موقع پر سسٹر میگن نے کہا کہ ’مہربانی فرما کر میرے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے۔

’یہ آپ کی جانب سے میرے لیے بہترین تحفہ ہوگا کہ میں اپنی بقیہ زندگی قید میں گزاروں۔‘

واشنگٹن ڈی سی سے تعلق رکھنے والی سسٹر میگن نے مقدمے کے دوران کہا کہ ان کی زندگی کا واحد پچھتاوا یہ ہوگا کہ انہوں نے اس اقدام میں بہت دیر کر دی۔

ان تینوں افراد پر سرکاری املاک کو ایک ہزار ڈالر مالیت کا نقصان پہنچانے کا بھی قصوروار ٹھہرایا گیا۔

تینوں نے جوہری سائٹ پر نہ صرف حفاظتی باڑ کاٹی بلکہ اندر جا کر چہل قدمی کی، سپرے پینٹ کی مدد سے دیواروں پر تصاویر بنائیں اور تحریریں لکھیں اور ایک دیوار کو ہتھوڑیوں کی مدد سے نقصان پہنچایا۔

ان تینوں نے اس عمارت کے اندر دو گھنٹے گزارے۔ جس کے بعد ان تینوں نے عمارت کے بیرونی دیواروں پر بچوں کے دودھ پینے کی بوتلوں کی تصاویر بنائیں جن میں خون بھرا تھا۔

جب عمارت کے محافظ وہاں پہنچے تو تینوں نے انہیں کھانے کی پیشکش کی اور گانے گانے لگے۔

امریکی قانون ساز اور توانائی کے محکمے نے بعد میں ایک تحقیق سے یہ معلوم کیا کہ اس جوہری توانائی کے مقام پر سکیورٹی کے انتظامات انتہائی ناقص تھے۔

اس کے نتیجے میں جوہری تنصیبات کی حفاظت کے قومی ادارے کی انتظامیہ سمیت کئی اعلیٰ حکام نے استعفے دے دیے تھے۔

اس سائٹ پر سکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنی ڈبلیو ایس آئی کو برطرف کر دیاگیا تھا۔