سعودی عرب میں گھریلو ملازمہ کے حقوق کا معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption معاہدے کےتحت آجر گھریلو ملازمہ کے پاسپورٹ کو اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکے گا

سعودی عرب نےانڈونیشیا کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی خواتین گھریلو ملازماؤں کے حقوق کا تحفظ کیا جائےگا۔

اس معاہدے کےتحت آجرگھریلو ملازمہ کا پاسپورٹ ضبط نہیں کر سکےگا اور نہ ہی ان پر یہ پابندی عائد ہو سکےگی کہ وہ اپنے خاندان سے رابطہ نہ کریں۔

اس معاہدے کے تحت آجر پر لازم ہوگا کہ وہ ملازمہ کو ہر ماہ وقت پر تنخواہ ادا کرے اور ملازمہ کو چھٹی دینا بھی لازمی ہوگا۔

انڈونیشیا کی حکومت گذشتہ چار برسوں سے سعودی عرب سے اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہی تھی۔

ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازمائیں ماضی میں زیادہ کام کروانے، قید رکھنے، تنخواہ کی عدم ادائیگی، خوراک کی عدم فراہمی اور جسمانی اور ذہنی اذیتیں پہنچائے جانے کی شکایت کرتی رہی ہیں۔

انڈونیشیا کی حکومت معاہدے پر نفاذ کے بعد ہی مزید لوگوں کو سعودی عرب میں ملازمت کرنے کی اجازت دے گی۔

ماضی میں کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ جب کسی گھریلو ملازمہ نے اپنے ساتھ ناروا سلوک کی رپورٹ کرانی چاہی تو انھیں مختلف الزامات کے تحت گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیاگیا۔

اس معاہدے کے تحت گھریلو ملازمہ کو 24 گھنٹوں میں کم از کم نو گھنٹے آرام، وقت پر تنخواہ، بیماری کی چھٹی اور دو سالوں میں ایک بار ایک ماہ کی چھٹی دینا ہوگی۔

اس سال کے اوائل میں سعودی بادشاہ نے انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک ملازمہ کی سزا معاف کی ہے جسے سنہ 2003 میں جادو کرنے کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دونوں حکومتوں کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت انڈونیشیا کی حکومت یقینی بنائےگی کہ سعودی عرب میں ملازمت کے لیے جانے والی خواتین کا طبی معائنہ ہو اور وہ کسی مجرمانہ کارروائی میں ملوث نہیں ہوں۔

سعودی عرب کے محنت کے نائب وزیر احمد الفائد نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ اس معاہدے کے تحت تنخواہ اور فیسوں میں اضافہ شامل نہیں ہے۔

البتہ معاہدے کے تحت گھویلو ملازمہ پر لازم ہوگا کہ وہ اسلامی تعلیمات کا احترام کریں اور اپنے فرائض مناسب انداز میں ادا کریں۔گھریلو ملازمہ پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے آجر کا حکم مانیں گی، خاندانی راز افشا نہیں کریں گی اور بغیر کسی معقول وجہ کے ملازمت نہیں چھوڑیں گی۔

سعودی عرب کی کابینہ نے جولائی 2013 میں ایک ایسے ضابطے کی منظوری دی تھی جس کےتحت 15 لاکھ غیر ملکی ورکروں کی ملازمت کو باضابطہ بنایا جائےگا۔ اسی ضابطے کےنافذ العمل ہونے سے اب تک ڈھائی لاکھ غیر ملکی ورکروں کو ملک سے نکالا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں