یوکرین: صدر کا ’جنگ بندی‘ کا اعلان، مذاکرات کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پیغام کے مطابق عارضی جنگ بندی کے بعد حکومت اور اپوزیشن لیڈران مذاکرات کریں گے

یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق صدر نے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

صدارتی ویب سائٹ کے مطابق صدر اور اپوزیشن لیڈران ’جنگ بندی‘ پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

پیغام کے مطابق عارضی جنگ بندی کے بعد حکومت اور اپوزیشن لیڈران مذاکرات کریں گے تاکہ دو روز سے جاری پرتشدد کارروائیاں بند کی جا سکیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سکیورٹی فورسز نے دو روز قبل مظاہرین کو میدان سے ہٹانے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا جس میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل یوکرین کے صدر نے دارالحکومت کیئف میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد فوج کے سربراہ کرنل جنرل وولودیمر کو برطرف کردیا تھا۔

صدارتی ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنل جنرل وولودیمر کی جگہ ایڈمرل یوری الین کو مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یوکرین میں پولیس نے دارالحکومت کیئف کے میدان میں مہینوں سے ’میدان‘ میں بیٹھےمظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کے لیے ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا ہوا ہے۔

گذشتہ رات کو شروع ہونے والے آپریشن میں کم از کم 26 لوگوں کو ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والے کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس دوران سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یوکرین کے صدر یانوکووچ نے احتجاجی مظاہرین کو انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال پر یوکرین کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

منگل کی شب اپوزیشن سے ناکام مذاکرات کے بعد یوکرینی صدر نے حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے کہا تھا کہ وہ ’خود کو سخت گیر موقف کی حامل قوتوں سے الگ کر لیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ابھی تنازعے کے خاتمے کے لیے زیادہ تاخیر نہیں ہوئی ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس نے منگل کی رات چار بجے آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن شروع ہونے کے بعد بعض خمیوں میں آگ لگ گئی۔

یوکرین کے صدر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے رہنماؤں نے جمہوریت کے اصولوں کو نظرانداز کر دیا ہے جن میں سے ایک اصول یہ ہے کہ طاقت کا حصول سڑکوں پر آنے سے نہیں بلکہ انتخابات سے ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پولیس کے ہزاروں اہلکاروں نے مظاہرین کے مرکز ’میدان‘ کو منگل سے گھیر رکھا ہے اور ان کی تازہ کارروائی بدھ کی صبح چار بجے شروع ہوئی۔

یوکرینی صدر نے کہا کہ حزب اختلاف نے لوگوں کو ہتھیار اٹھانے کا پیغام دے کر حد پار کر لی ہے اور تشدد کے ذمہ داران کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بحران کے خاتمے کا ’بہتر اور کارگر حل مذاکرات اور سمجھوتے کی شکل میں موجود ہے۔‘

خِیال رہے کہ یوکرین میں حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی تھی۔

اسی بارے میں