’افغانستان کا دہشت گروں کی محفوظ پناہ گاہ بننے کا خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رپورٹ میں طالبان کو کمزور لیکن ایک بااثر خطرہ قرار دیا گیا ہے

امریکہ کے ایک تحقیقاتی ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک آزاد تجزیاتی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے دسمبر سنہ 2014 تک بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد ملک کا ’دہشت گردوں‘ کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جانے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سنٹر فار نیول انالیسز (سی این اے) کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں ایسی منظر کشی کی گئی ہے کہ طالبان افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کابل میں دوبارہ اقتدار پر قابض ہونے کے لیے مہم میں تیزی لائیں گے۔

’تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طالبان پر عسکری دباؤ کم ہونے کی صورت میں وہ پاکستان کے اندر اپنے محفوظ پناہ گاہوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت بحال کریں گے۔‘

رپورٹ کے مطابق جو خبر رساں ادارے روئٹرز نے جمعرات کو حاصل کی، بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد کابل کو بنیادی سکیورٹی مہیا کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی جو تعداد سوچی گئی ہے، اس سے زیادہ تعداد کی ضرورت ہو گی۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افعان نیشنل سکیورٹی فورس (اے این ایس ایف) کی موجودہ تعداد 382000 سے کم کر کے 228500 پر لانے سے امریکہ کی ’افغانستان کو شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنے‘ کی پالیسی خطرے میں پڑ جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ہم یہ مشورہ دیتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو ایک نیا منصوبہ تیار کرنا چاہیے جس کے تحت اے این ایس ایف کی تعداد 373400 رکھی جائے اور ان کی معاونت کے لیے مناسب تناسب کا معاون مشن ہو جس میں صلاح کار بھی شامل ہوں، اور یہ نیا منصوبہ کم از کم سنہ 2018 تک ہو۔‘

سی این اے امریکہ میں ریسرچ اور تجزیے کرنے والے غیر منافع ادارے کا حصہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس تجزیاتی رپورٹ تیار کرنے کی درخواست امریکی کانگریس نے ایک قانون پاس کر کے کی تھی جسے سی این اے نے تیار کیا۔

378 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ سے کانگریس کے اراکین پر افغانستان کی سکیورٹی کے لیے مزید چند سالوں تک اضافی امداد دینے پر غور کرنے کے لیے دباؤ بڑھے گا حالانکہ پینٹاگون کو بڑے پیمانے پر اپنے بجٹ میں کٹوتی کا سامان ہے۔

مئی سنہ 2012 میں افغان سکیورٹی فورسز کو کم کرنے کے فیصلے کے وقت نیٹو کےرہنماؤں نے یہ فرض کیا تھا کہ سنہ 2015 تک طالبان سے خطرہ بہت حد تک کم ہو جائے گا۔

اس پر سی این اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے تجزیے کے مطابق یہ مفروضہ غلط تھا۔‘ رپورٹ میں طالبان کو کمزور لیکن ایک بااثر خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

امریکہ کے وزیرِدفاع چک ہیگل کے ایک ترجمان نے سی این اے کے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ وزیرِ دفاع افعانستان میں سکیورٹی فورسز کی معمولی تعداد رکھنے کے حق میں ہیں جس طرح کہ مئی سنہ 2012 میں نیٹو کے رہنماووں کے درمیان اتفاق ہوا تھا۔

ترجمان جان ریئر ایڈمرل جان کیبری نے کہا کہ پینٹاگون اس رپورٹ کی تفصیلات پر غور کر رہا ہے اور اس پر عوامی سطح پر بات کرنے کے لیے فی الحال تیار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ صدر حامد کرزئی امریکہ کے ساتھ باہمی سکیورٹی کے معاہدے پر دستخط کرنے پر رضامند نہیں ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں سنہ 2014 کے بعد بین الاقوامی فوج کو رکھنے کا فیصلہ التوا کا شکار ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آنیرس فو راسموسن نے جمرات کو اے پی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر حامد کرزئی اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات تک اس سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ نئے منتخب ہونے والے افغان صدر اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔

اسی بارے میں