مکہ: پیغمبرِ اسلام کی جائے ولادت کی مسماری کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیغمبرِ اسلام کی پیدائش کا مقام مسجد الحرام کے ساتھ ہی واقع ہے

آثار قدیمہ کے ایک سعودی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ مکہ میں تعمیراتی منصوبوں کی وجہ سے پیغمبر اسلام کی جائے ولادت تباہی کے خطرے سے دوچار ہے۔

سعودی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر عرفان العلاوی نے بی بی سی کو بتایا کہ مکہ میں تعمیر نو کے اربوں ڈالر کے نئے منصوبوں کے تحت ممکن ہے کہ پیغمبر اسلام کی جائے ولادت پر نئی عمارتیں بنادی جائیں۔

پیغمبرِ اسلام کی جائے پیدائش جسے ’موّلِد‘ کے نام سے جانا جاتا ہے مسجد الحرام کے ساتھ واقع ہے اور اس وقت بھی اس کے آثار پر ایک لائبریری قائم ہے۔

یہ لائبریری دو سال پہلے بند کر دی گئی تھی اور ڈاکٹر علاوی کے بقول اب اس عمارت کو مسمار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ نے بھی حال ہی میں اس بارے میں اپنی خبر میں کہا ہے کہ اس تعمیراتی منصوبے کی انچارج سعودی کمپنی بن لادن گروپ نے تجویز دی ہے کہ اونچی بنیاد پر قائم لائبریری اور اس کے نیچے واقع عمارت کو مسمار کر کے امامِ کعبہ کی رہائش گاہ اور ساتھ واقع شاہی محل کے لیے راستہ نکالا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تعمیر نو کے اربوں ڈالر کے نئے منصوبوں کے تحت ممکن ہے کہ پیغمبر اسلام کی جائے ولادت پر نئی عمارتیں بنادی جائیں

خیال رہے کہ سعودی عرب کے حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ وہ جگہ پیغمبر اسلام کی جائے ولادت ہے اور انھوں نے اس لائبریری میں ایسی عبارات والے بورڈ بھی نصب کیے ہوئے ہیں جن میں زائرین کو وہاں جانے سے منع کیا جاتا ہے۔

تاہم ڈاکٹر علاوی کا کہنا ہے کہ صدیوں پرانے نقشے اور دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہی پیغمبرِ اسلام کی پیدائش کا مقام ہے۔

خیال رہے کہ مکہ میں عازمینِ جج اور زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پرانی عمارتوں کے انہدام اور ان کی جگہ بلند و بالا ہوٹلوں اور دیگر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔

اگرچہ اس عمل کے دوران بہت سے ایسے تاریخی مقامات بھی منہدم کیے گئے ہیں جو پیغمبر اسلام کے زمانے کے تھے لیکن سعودی حکام کا موقف ہے کہ حاجیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے یہ اقدامات ضروری ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں