شام: سلامتی کونسل کا امداد تک رسائی کے لیے قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جب تک دہشت گردی کو ختم نہ کیا جائے اس قرار داد پر عمل درآمد مشکل ہے: شامی سفیر

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں امداد تک رسائی کے لیے ایک قرارداد کو متفقہ طور منظور کر لیا ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ سلامتی کونسل کے اراکین اس معاملے پر متفق ہوئے ہیں۔

قرار دادا میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں پر لازم ہو گا کہ وہ عام لوگوں تک امداد پہنچانے والے قافلوں کو ملک بھر میں سفر کرنے کی اجازت دیں گے۔

قرارداد کے متن میں کسی قسم کی پابندیوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر دونوں طرفین قرارداد کی پابندی نہیں کریں گے تو مزید ’اقدامات کیے جائیں گے۔‘

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس قرارداد کو سراہاتے ہوئے کہا کہ’اگر اس قرارداد پر اچھی نیت سے جلدی عمل درآمد کیا جائے تو لوگ کچھ مشکلیں تو آسان ہو جائیں گی۔‘

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے وزیر سمانتا پاور نے کہا کہ اس قرار داد کو پہلے منظور ہو جانا چاہیے تھا۔

امریکی وزیر نے کہا کہ’دنیا کو اب اس قرارداد پر عمل درآمد کرنے کے لیے اکھٹے کھڑے ہونا چاہیے تاکہ پھر وعدہ خلافی نہ ہو، دیر نہ لگے اور عام شہریوں پر حملے نہ ہوں۔‘

روس اور چین، جنھوں نے ماضی میں اس قسم کے قراردادوں کی مخالفت کی تھی، اس دفعہ اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

روس ابھی تک شامی صدر بشارالاسد کے حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ اس نے بتدائی طور پر قرار داد کے متن کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ پابندیوں کے ذکر کو نکالا جائے۔

تاہم قرار داد میں بیرل بموں کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے اور اس میں امدادی قافلوں کی سرحد پار آمد و رفت اور ملک میں محاصروں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دریں اثنا روس کے سفیر ویٹالی چیورکن نے کہا کہ ہمارے بعض مطالبات شامل ہونے سے قرار داد متوازن ہو گیا ہے۔

لیکن اقوامِ متحدہ میں شام کے سفیر بشار جعفری نے کہا کہ امداد تک رسائی کو اس وقت تک مؤثر نہیں بنایا جا سکتا’جب تک انسانی امداد کے موضوعات کو غیر سیاسی نہ کیا جائے اور دہشت گردی کو ختم نہ کیا جائے۔‘

شام میں مارچ 2011 میں حکومت مخالف بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 95 لاکھ افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

اسی بارے میں