یوکرین:سپیکر تورچینوف ملک کے عبوری صدر نامزد

اولیکسینڈر ٹرچینوف تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تورچینوف سابق وزید اعظم یُولیا ٹیماشنکو کے قریبی ساتھی ہیں

یوکرین میں پارلیمنٹ نے صدر وکٹر یانوکووچ کو ہٹانے کے ایک دن بعد پارلیمنٹ کے سپیکر اولیکساندر تورچینوف کو عبوری صدر مقرر کر دیا ہے۔

سنیچر کو ارکان پارلیمینٹ نے صدر وکٹر یانو کووچ کو کئی دنوں سے جاری عوامی احتجاج کے بعد اقتدار سے ہٹانے اور ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اولیکساندر تورچینوف نے ارکان پارلیمنٹ کو حکومتی اتحاد بنانے کے لیے منگل تک کا وقت دیا ہے۔

یوکرین کے سیاسی مستقبل پر غور کرنے کے لیے پارلیمینٹ کا اتوار کو دوبارہ اجلاس ہو رہا ہے۔

سابق وزیرِاعظم یُولیا ٹیماشنکو کے قریبی ساتھی اور ملک کے عبوری صدر تورچینوف کا کہنا ہے کہ ایک اتحادی حکومت کا قیام ان کی ’اولین ترجیح‘ ہے۔

حزب اختلاف کے لیڈر سابق عالمی چیمپیئن باکسر ویٹالی کلیشیکو کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ویٹالی کلیشیکو نے کہا کہ 25 مئی کو ہونے والے انتخابات میں صدر کا انتخاب بھی ہونا چاہیے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 25 مئی کو ہونے والے انتخابات میں صدر کا انتخاب بھی ہونا چاہیے۔

’میں یوکرین کو جدید یورپی ملک بنانا چاہتا ہوں۔ اگر میں صدر کے عہدے کے ذریعے ایسا کر سکا تو میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔‘

سنیچر کو حزب اختلاف نے بڑی تیزی سے ملکی معاملات اپنے گرفت میں لے کر پارلیمنٹ نے سپیکر، اٹارنی جنرل اور وزیر داخلہ جیسے اہم عہدوں پر نئے لوگ مقرر کیے اور انتخابات 25 مئی کو کرانے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔

سنیچر کو یوکرین کی سابق وزیرِاعظم یُولیا ٹیماشنکو نے جیل سے رہائی کے بعد دارالحکومت کیئف کے آزادی چوک میں ہزاروں کی تعداد میں حزبِ اختلاف کے حامیوں سے کہا کہ وہ مظاہرے جاری رکھیں۔

ان کی رہائی جمعے کو پارلیمان میں ووٹنگ کے بعد عمل میں آئی تھی جس سے ان کی رہائی کا راستہ ہموار ہوا تھا۔

برطرف کیے جانے والے صدر یانوکووچ نے پارلیمنٹ کے ان اقدامات کو بدمعاشی اور بغاوت قرار دیا ہے

سنیچر کو یوکرین کی ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے ایک ریکارڈ شدہ انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ قانون کے مطابق منتخب صدر ہیں اور وہ نہ ہی مستعفی ہوں گے اور نہ ملک چھوڑیں گے۔

انہوں نے دارالحکومت کیئف میں رونما ہونے والے واقعات کو ’تباہی، لاقانونیت اور قبضہ‘ قرار دیا۔

۔

اسی بارے میں