’مشرق و مغرب میں بٹا ہوا یوکرین‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

جب سے یوکرین کا بحران شروع ہوا ہے، حقیقی اور تخیلاتی تـجزیہ نگار مسلسل یوکرین میں مشرق اور مغرب کے درمیان ’تقسیم‘ کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ اس منطق کے مطابق یوکرین کو واضح طور پر دو نظریاتی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور یہ حصے اپنے اپنے اندر نہ صرف ہم آہنگ اور ہم جہت ہیں بلکہ یہ دونوں یکجا نہیں ہو سکتے۔اس نظریے کا منتقی نتیجہ یہی ہے کہ دونوں نظریات کے لوگ یوکرین کی تقسیم کے خواہاں ہیں اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

سنیچر کو وِکٹر یانوکووچ کے دارالحکومت سے فرار ہو کر روس پرست اور ’علیحدگی پسند‘ شہر خرکیئف پہنچنے کے ساتھ ہی تجزیہ کاروں نے اس خدشے کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ سابق صدر ملک کے مخلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی کا اغاز کر دیں گے۔ لیکن اس قسم کے تـجزیات کا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں چیزوں کو زیادہ ہی سادہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے تجزیوں میں پیچیدہ معاملات کو کھول کر بیان کرنے کی بجائے انھیں مزید پوشیدہ بنا دیا جاتا ہے۔

یوکرین آنے والے ہر شخص کو نظر آ جاتا ہے کہ اس کا مغرب کے رنگ میں رنگا ہوا بڑا شہر لِوّو مشرقی شہروں (مثلا لوہانسک اور ڈونیشٹک) سے بالکل مختلف ہے۔ لوّو کے لوگ ایک آزاد یوکرین کے حامی ہیں۔ ان لوگوں نے ہمیشہ وِکٹر یانوکووچ کے خلاف ووٹ دیا ہے، یہ لوگ یوکرینی زبان بولتے ہیں اور کثیرالذبان اور بہت متنوع ثقافت کے حامل ہونے باوجود انھیں اپنی یوکرینی ثقافت پر ناز ہے اور یہ اپنے روسی ماضی کو پسند نہیں کرتے۔

اس کے برعکس لوہانسک اور ڈونیشٹک کے شہر روس نواز ہیں، ایک آزاد یوکرین کے بارے میں شکوک کا شکار ہیں، یانوکووچ کے حق میں ووٹ دیتے ہیں، روسی زبان بولتے ہیں، روسی ثقافت کو ترجیح دیتے ہیں، ایک ہی زبان بولتے ہیں، ایک ہی تہذیب کے علمبردار ہیں اور اپنے روسی ماضی کو گلے لگاتے ہیں۔

لیکن آپ جیسے ہی ان دونوں روس نواز شہروں کے گر و نواح کے قصبوں میں پہنچتے ہیں تو یہ تصویر دھندلا جاتی ہے۔ مثلا لوہانسک صوبے کے ایک شہر (جوکہ روس کی سرحد پر واقع ہے) کی سرکاری ویب سائیٹ یوکرینی زبان میں ہے اور اس ویب سائیٹ پر جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ واضح طور پر یانوکووچ کی مخالفت میں ہیں۔

اسی طرح لوہانسک اور ڈونیشٹک صوبوں کے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں کے لوگ روسی کی بجائے یوکرینی میں بات کرتے ہیں اور یوکرین کی اپنی ثقافت کے قائل ہیں۔ دونوں صوبوں کے دیگر بڑے شہروں میں بھی کٹر روس نوازوں کے علاوہ باقی لوگوں کے ساتھ اگر آپ یوکرینی میں بات کریں تو وہ ان کی اکثریت بخوشی یوکرینی بولنا شروع کر دیتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزارت داخلہ اس لڑائی میں حکومت کی بجائے ’کیئف کی عوام‘ کا ساتھ دے گی

اگر آپ ملک کے مغربی شہر لِوّو میں چلیں جائیں تو بھی آپ کو ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ لِوّو شہر کی آبادی کی بڑی اکثریت روانی سے روسی بول سکتی ہے، یہ لوگ بخوشی روسی میں گفتگو کرتے ہیں، روسی اخبارات اور روسی کتابیں پڑھتے ہیں اور روسی ٹی وی دیکھتے ہیں۔ اگر کسی مقامی ریستوران میں ریڈیو لگا ہوا تو غالب امکان یہی ہے کہ اس پر بھی کوئی روسی سٹیشن ہی چل رہا ہو گا۔ اسی طرح اس شہر میں روس سے آئے ہوئے سیاحوں کے لیے بھی کشش ہے کیونکہ انھیں یہاں کے پکوان، قدیم عمارتیں اور شہر کا مخصوض یوکرینی انداز پسند آتا ہے۔

جہاں تک ملک کے وسطی علاقے کا تعلق ہے تو وہاں مشرق و مغرب کی تقسیم مزید دھندلی ہو جاتی ہے۔ اگر آپ یوکرین کے انتہائی مغرب سے انتہائی مشرق کی طرف جانا شروع کریں تو اپنی روز مرہ زندگی میں یوکرینی بولنے والے افراد کی تعداد بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ دوسری جانب آپ اگر مخالف سمت میں سفر شروع کر دیں تو روسی بولنے والوں کا تناسب بتدریج کم ہوتا جاتا ہے۔ ملک کے زیادہ تر علاقوں میں، اور خاص طور پر اس کے وسطی علاقوں میں زیادہ تر لوگ دونوں زبانیں بولتے ہیں۔

روسی قومیت کے حامل لوگوں کی اکثریت، جو کہ ملک کی آبادی کا پانچواں حصہ ہے، روز مرہ استعمال کی حد تک یوکرینی بول لیتی ہے اور ان میں ایسے کٹر قوم پرستوں کی تعداد کم ہی ہے جو یوکرینی بولنے سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔ جہاں تک یوکرینی قومیت کے لوگوں کا تعلق ہے تو قطع نظر اس بات کہ وہ ملک کے کس حصے میں رہتے ہیں، ان کی اکثریت دونوں زبانیں بول سکتی ہے۔ دارالخلافہ کیئف اس کی بہترین مثال ہے جہاں ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہوئے لوگ روسی زبان استعمال کرتے سنائی دیتے ہیں لیکن جب آپ ان روسی زبان والوں سے خطاب کرتے ہوئے روسی بولیں گے تو آپ کو جواب یوکرینی میں ہی ملے گا۔

ان حقائق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ نظریہ سراسر غلط ہے کہ یوکرین دو واضح دھڑوں میں بٹا ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ یوکرین ایک نہایت ہی کثیرالثقافتی تہذیب کا حامل ملک ہے جہاں کے لوگ کئی زبانیں بولتے ہیں اور مختلف سیاسی ترجیحات رکھتے ہیں۔ یوں یوکرین امریکہ، کینیڈا، اٹلی، جرمنی، ترکی، برازیل، انڈیا یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ جب یوکرین کی بات ہوتی ہے تو ہم یہاں پائی جانے والی تہذیبوں یا زبانوں کے تنوع کو ایک مسئلہ سمجھتے ہیں اور کہنتے ہیں کہ یہ ملک تقسیم ہو کر رہے گا؟

یوکرین میں اصل دھڑے بندی مشرق اور مغرب کے درمیان نہیں ہے، بلکہ اس ملک میں جمہوریت پسند قوتیں ایک جانب کھڑی ہیں اور یانوکووچ کی ’پارٹی آف ریجنز‘ دوسری جانب۔

یوکرین میں پائی جانے والی یہ اصل دھڑے بندی مستقبل قریب میں ختم ہو سکتی ہے۔ یونوکووچ کا اقتدار اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ زیادہ تر ملک ان کے قابو میں نہیں رہا ہے۔ صدر سمیت ان کی پارٹی کے دوسرے مرکزی رہنما دارالحکومت سے فرار ہو رہے ہیں اور ملک کی وزارت داخلہ اعلان کر چکی ہے کہ اس لڑائی میں وہ حکومت کی بجائے ’کیئف کی عوام‘ کا ساتھ دے گی۔ ملک کی پارلیمان، جو اس وقت حزب مخالف کے ہاتھ میں ہے، سنہ 2004 کا آئین بحال کر رہی ہے جس میں صدر کے اختیارات کم ہیں اور اصلاحات پسند کابینہ کی تعیناتی کا اختیار خود مقننہ کے ہاتھ میں ہے۔

معلوم نہیں کہ یونوکووچ کا اقتدار کب ہوگا، لیکن ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی جماعت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ وہ موقع ہوگا جب یوکرین اپنی کثیرالتہذیبی کے باوجود آخرکار دوسرے ممالک جیسا ایک ’نارمل‘ ملک بن جائے گا۔

اسی بارے میں