برطانیہ کا ویزا نیلام کرنے کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اس وقت تارکینِ وطن برطانیہ میں دس لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنے کے بعد بھی کم سے کم پانچ سال مسلسل برطانیہ میں گزارنے کے بعد ہی مستقل سکونت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں

برطانیہ میں سرکاری مشیروں نے تجویز دی ہے کہ دولت مند غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے برطانیہ میں سکونت کے حق کی نیلامی کی جانی چاہیے۔

اس وقت تارکینِ وطن برطانیہ میں دس لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کے بعد مستقل سکونت حاصل کر سکتے ہیں۔

تاہم مائیگرینٹ ایڈوائزری کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس سے عام برطانوی شہری کو بہت کم فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ کم سے کم سرمایہ کاری کو دوگنا کر کے 20 لاکھ پاؤنڈ کیا جائے اور نیلامی کی صورت میں 25 لاکھ سے زائد تمام رقم قومی لاٹری کی طرز کی کسی سکیم میں استعمال کی جائے۔

واضح رہے کہ یہ تجاویز صرف مستقل سکونت کے حق کے لیے ہیں، شہریت کے لیے نہیں۔

یہ دنیا میں اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہوگا تاہم اس کے اطلاق کا فیصلہ سیکرٹری داخلہ ٹیریسا مے نے کرنا ہے۔

مشیروں کے مطابق انھیں امید ہے کہ سالانہ 100 ویزے نیلام کیے جا سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں دو سال میں مستقل سکونت حاصل ہو جائے گی جو دوسرے طریقوں میں پانچ سال کا عرصے گزرنے پر ملتی ہے۔

نیلامی میں جیتے والوں کو رہائش کے لیے بھی نرمی دی جائے گی جس میں ایک سال میں برطانیہ میں گزاری گئی کم سے کم مدت کو نصف کر کے 90 دن کیا جائے گا۔

اس وقت برطانیہ میں 10 لاکھ پاؤنڈ، 50 لاکھ پاؤنڈ یا ایک کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کرنے کے بعد بھی کم سے کم پانچ سال مسلسل برطانیہ میں گزارنے کے بعد ہی مستقل سکونت کے لیے درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے۔ ایسے سرمایہ کاروں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ انگلش بولیں اور یہ سرمایہ کار اپنے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت افراد کو بھی برطانیہ بلا سکتے ہیں۔

کمیٹی کے سربراہ ڈیوڈ میٹکلف کا کہنا ہے کہ ’موجودہ سکیم میں برطانوی شہریوں کے لیے بہت کم فوائد ہیں کیونکہ بہت سے درخواست گزار حکومت کی طرف جاری کردہ بانڈز اور اس طرح کی دیگر سکیموں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور ایک طرح سے وہ حکومت کو قرضے دے رہے ہیں اور اصل میں وہ برطانیہ میں سرمایہ نہیں لگا رہے۔

سر ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ’اس سے برطانوی شہریوں کو کم اور تارکینِ وطن کو زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نئی سکیم میں اچھے کاموں کے لیے مختص فنڈ سے برطانوی لوگوں کو فائدہ حاصل ہو گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ سکیم کا مطلب برطانوی پاسپورٹ فروخت کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ ان سرمایہ کاروں کو برطانوی ’شہریت‘ کے حصول کے لیے پھر بھی کم سے کم پانچ سال برطانیہ میں گزارنا ہوں گے۔

امیگریشن وکلا نے نیلامی کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے اسے ’ای بے‘ کلچر قرار دیا ہے۔ تاہم سر ڈیوڈ وکلا کی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وکلیوں کو صرف غیر ملکیوں سے حاصل ہونے والی بھاری فیسوں سے دلچسپی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انہیں اتنی ہی پریشانی برطانوی شہریوں کے لیے کیوں نہیں؟ وہ برطانیہ میں فلاحی فنڈز کے لیے اتنے بے چین کیوں نہیں ہوتے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ پروسٹیٹ کینسر کے خلاف اقدامات اور سکولوں میں کھیلوں کا سامان فراہم کیے جانے جیسے کام ویزا نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے کیے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں