سعودی مفتیوں کی تربیت کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینکڑوں ججوں نے شاہ عبداللہ کے نام خطوط میں تربیتی مراکز پر تنقید کی ہے

سعودی عرب نے اپنے ججوں کی افادیت اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تربیتی مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی عرب میں جج دراصل مفتی ہوتے ہیں جو تمام معاملات کا فیصلہ کرتے وقت شرعی قوانین کی سخت تعبیر کا اطلاق کرتے ہیں۔ ان ججوں کے اختیارات وسیع ہیں اور ان پر لازم نہیں کہ وہ کسی مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت ماضی کے عدالتی فیصلوں سے رجوع کریں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ قانونی اور عدالتی روایت کے مطابق فیصلے نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ سعودی ججوں کے فیصلوں میں تسلسل اور شفافیت کی کمی ہوتی ہے۔

دوسری جانب ملک کے قدامت پسند حلقے ہمیشہ عدالتی نظام میں اصلاحات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں ایسی اصلاحات سعودی عرب کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کے لیے خطرہ ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق منگل کو ملک کی کابینہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ججوں کی تربیت کے مجوزہ مراکز وزارتِ انصاف کے تحت کام کریں گے۔ بیان کے مطابق تربیت کا مرکزی مقصد ججوں اور دیگر سرکاری اہلکاروں کی اہلیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

سعودی عرب کے موجودہ عدالتی نظام میں فوجداری اور ذاتی نوعیت کے تمام مقدمات کے فیصلے صرف شریعت پر مبنی قوانین کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ لیکن چونکہ شریعت کی کوئی باقاعدہ (کوڈی فائیڈ) شکل موجود نہیں ہے اس لیے یہ جج کی صوابدید پر ہے کہ وہ جیسے چاہے قرآن اور سنت کی تشریح کر کے مقدمے کا فیصلہ سنا دے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ججوں کے ان اختیارات کی وجہ سے ان کے فیصلوں میں تسلسل نہیں رہتا اور وہ ایسے فیصلے کر دیتے جن پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب کاروباری دنیا کے لوگوں کو اعتراض ہے کہ ججوں کے اس قسم کے فیصلوں سے ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

رواں سال کے شروع میں سعودی عرب کے کچھ مقامی اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہوئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ سینکڑوں ججوں نے شاہ عبداللہ کے نام دو کھلے خطوط پر دستخط کیے تھے جن میں تربیتی مراکز کے منصوبے پر تنقید کی گئی تھی۔

ایک خط میں کہا گیا تھا کہ تربیتی مراکز کے خیال سے ’مغربیت کی بدبو‘ آتی ہے۔

اسی ماہ قدامت پسندوں نے اُس عدالتی فیصلے کی بھی مخالفت کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین کے لیے یہ لازم نہیں کہ ان کی شناخت کے لیے کوئی مرد رشتہ دار بھی عدالت میں موجود ہو۔ اس فیصلے سے مردوں کے لیے مشکل ہوگیا کہ وہ خواتین کو عدالت سے رجوع کرنے سے روک لیں، خاص طور پر اس وقت جب مرد خود ہی ملزم ہوں۔

اسی بارے میں