ہزاروں بے روزگاروں کو پہلے امید پھر مایوسی

Image caption سویڈن میں گذشتہ ماہ کے اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح 8.6 فیصد تھی

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں اس وقت صورتحال خراب ہو گئی جب ملازمت کے حصول کے لیے ایک ساتھ ہزاروں افراد روزگار کے سرکاری مرکز پر پہنچ گئے۔

روزگار کے ادارے نے ملازمت کے متلاشی ایک ہزار لوگوں کی بجائے 61 ہزار لوگوں کو ایک ساتھ ای میل کر دی۔

سٹاک ہوم پولیس کے سربراہ اولف لینگرن نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ای میل کرنے کا مقصد ملازمت تلاش کرنے والے افراد کو ملازمت دینے والوں سے ملاقات کا ایک موقع فراہم کرنا تھا۔

انھوں نے کہا کہ بہت ساروں لوگوں کو مرکز پہنچ کی مایوسی ہوئی تاہم کوئی گرفتاری نہیں کی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ای میل مرکز میں اندراج کرانے والے افراد کو بھیجی جانی تھی لیکن ہزاروں افراد ملازمت فراہم کرنے والے دفتر میں امڈ آئے جبکہ ہجوم کی وجہ سے کئی دفتر سے متصل گلیوں میں انتظار میں کھڑے رہے۔

جب ہجوم میں سے بعض نے احتجاج کرنا شروع کیا تو انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی۔

ملازمت فراہم کرنے والی سروس کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کیلاس اولسن نے ای میل کے ذریعے یہ دعوت نامہ بھیجا تھا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں اس ناگوار صورتحال پر شدید افسوس ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد سے معذرت کرنا چاہتے ہیں۔

کیلاس اولسن نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ای میل فہرست میں کوئی مسئلہ پیدا ہو گیا اور اس کی وجہ سے مرکز میں صورتحال ابتر ہو گئی۔

انھوں نے کہا کہ یہ نہیں معلوم نہیں ہو سکا کہ مسئلہ انسانی غلطی یا تکنکی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوا۔

سویڈن میں گذشتہ ماہ کے اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح 8.6 فیصد تھی۔

اسی بارے میں