مصر: حملوں کی منصوبہ بندی، 26 افراد کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption اس کیس کا حتمی فیصلہ 19 مارچ کو متوقع ہے

مصر کی ایک عدالت نے سویز کنال میں بحری جہازوں پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں 26 افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ججوں نے کہا کہ ان افراد کے گروپ پر میزائل اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کا بھی الزام تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ ملزمان پر مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں چلایا گیا۔

بدھ کو دیے گئے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ملزمان نے’قومی یکجہتی‘ کو نقصان پہنچایا اور فوج، پولیس اور عیسائیوں کے خلاف اشتعال پیدا کیا۔

اس مقدمے کو اب ملک کے مفتی کو بھیج دیا جائے گا جو اس عدالتی فیصلے کی توثیق کریں گے۔

اس کیس کے حوالے سے حتمی فیصلہ 19 مارچ کو متوقع ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملزمان کے گروپ کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نہیں ہے۔

عدالت کی طرف سے یہ فیصلے ایسے حالات میں دیا گیا ہے جب ملک کے نامزد وزیرِ اعظم ابراہیم محلب نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ ’ملک کے کونے کونے سے دہشت گردی کو ختم کر دیں گے۔‘

گذشتہ پیر کو سابق نگران وزیر اعظم حاذم ببلاوی اور ان کی کابینہ کی طرف سے اچانک مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد ابراہمیم محلب کو نئی حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

نئے نامزد وزیراعظم سابق صدر حسنی مبارک کی حکمران جماعت میں سینیئر اہلکار تھے۔

انھوں نے اپنی کابینہ میں لوگوں کی تقررییاں شروع کر دیں ہیں اور انھوں نے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو وزیرِ دفاع مقرر کیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس ذمہ داری سے مستعفی ہو کر صدارتی انتخاب میں امیدوار کے طور پر مقابلہ کریں گے۔

حاذم ببلاوی کو جولائی 2013 میں محمد مرسی کو صدارت کے عہدے سے برطرف کرنے کے بعد نگراں وزیرِ اعظم مقرر کیا گیا تھا۔

اس وقت سے ابھی تک محمد مرسی کی حامی تنظیم اخوان المسلمین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا جزیرہ نما سینا میں شدت پسندوں نے حکومت، پولیس اور مسلح افواج کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو ہلاک کیا۔

اسی بارے میں