لندن: فوجی کے قتل کے مقدمے میں دو افراد کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں مجرم نومسلم اور برطانوی شہری ہیں

لندن میں ایک عدالت نے گذشتہ سال مئی میں ایک برطانوی فوجی لی رگبی کو ہلاک کرنے کے جرم میں ایک مجرم کو تاحیات عمر قید اور ایک کو کم از کم 45 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

لندن کے جنوبی مشرقی حصے میں 29 سال مجرم مائیکل ایدبولاجو اور 22 سالہ مائیکل ایدبووالو نے لی رگبی کو گاڑی سے ٹکر مارنے کے بعد چاقوکے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

فوجی کے قتل کا مقدمہ: مجرموں کا تعین

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption لی رگبی کے قتل کی مسلمانوں نے بھی مذمت کی تھی

کیس کی سماعت کرنے والے جج جسٹس سیونی نے کہا کہ ایدبولاجو کا کیس ان منفرد مقدمات میں سے ایک ہے جس میں تاحیات قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔

کیس کی سماعت کے موقعے پر جب جج نے سزا سنانا شروع کی تو دونوں نے کمرہ عدالت میں ہنگامہ کیا اور سکیورٹی گارڈز سے ہاتھا پائی کی جس کے بعد دونوں کو عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔

جج نے جب کہا کہ دونوں کے شدت پسند خیالات’ اسلام سے غداری‘ ہیں تو اس پر ایدبولاجو نے’ اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایاجبکہ ایدبووالونے کہا کہ’یہ جھوٹ‘ ہے۔

دونوں کی عدم موجودگی میں سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ دونوں فوجی لی رگبی کے ’وحشیانہ ‘ قتل کے قابل ذکر شواہد کی بنا پر مجرم ہیں۔

جج سیونی نے کہا کہ دونوں نے قتل اس انداز سے کیا کہ’میڈیا کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کی جا سکے۔‘

عدالت کے فیصلے کے بعد برطانوی فوجی لی رگبی کے اہلخانہ کی جانب سے پولیس کے رابطہ کار پٹ سپارک نے ایک بیان پڑھا کر سنایا۔

بیان کے مطابق’ اس کے علاوہ کوئی اور سزا قابل قبول نہیں ہے۔ہم فیصلے سے مطمئن ہیں کہ لی رگبی کو انصاف مل گیا۔

فوجی کو قتل کرنے کے بعد ایدبولاجو نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اللہ کا سپاہی ہے اور برطانوی فوجی کو ہلاک کرنا ایک جنگی عمل تھا۔

گذشتہ سال دسمبر میں لندن میں اولڈ بیلی میں ایک جیوری کو بتایا گیا کہ ان دونوں مجرموں نے فوزیلر رگبی کو 30 سے 40 گھنٹہ فی میل کی رفتار سے چلتی کار سے ٹکر ماری اور پھر ان کو گھسیٹ کر سڑک کے بیچوں بیچ لا کر گوشت کاٹنے والے ٹوکے سے وار کر کے ہلاک کر دیا۔

ایدبولاجو نے اپنی انتہا پسندی کو کبھی چھپایا نہیں تھا اور وہ میٹرپولیٹن پولیس اور سکیورٹی سروسز کے ریڈار پر تھا لیکن اس کے بارے میں کبھی یہ خیال نہیں ہوا کہ وہ کوئی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

ایدبولاجو کو کالعدم تنظیم المہاجرون نے انتہا پسندی کی طرف مائل کیا اور سال 2010 میں وہ الشباب میں شمولیت کی غرض سے صومالیہ جانے کی کوشش میں کینیا سے گرفتار ہوا۔

اس وقت برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے ڈائریکٹر اینڈریو پارکر نے اپنے ادارے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ کس شخص کہ ہمارے راڈار پر ہونے کا ہرگز مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ ہماری مائیکروسکوپ پر ہے۔

اسی بارے میں