’پاکستان میں القاعدہ کی قیادت کمزور ہو چکی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption القاعدہ کی مرکزی قیادت خاصی حد تک کمزور ہو چکی ہے: ولیم میک ریون

امریکی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر ایڈمرل ولیم میک ریون نے کہا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ کی قیادت بہت کمزور ہو چکی ہے۔

انھوں نے اس کے ساتھ ہی خبردار کیا کہ افغانستان سے تمام امریکی افواج کے انخلا کی صورت میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

سال 2011 میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف فوجی کارروائی کی قیادت کرنے والے ایڈمرل میک ریون نےکانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ اگر امریکی فوج افغانستان سے ’مکمل طور پر نکل جاتی ہے، خصوصی کارروائیوں کرنے کے لیے افغانستان میں کوئی نظام نہیں رہتا تو اس صورت میں یقیناً خطرے سے نمٹنامشکل ہو جائے گا اور القاعدہ کے خطے میں دوبارہ فعال ہونے کا امکان ہے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایڈمرل میک ریون نے مزید کہا کہ القاعدہ کا خطرہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان کے شمالی علاقوں کنڑ اور نورستان میں برقرار رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ القاعدہ کی مرکزی قیادت خاصی حد تک کمزور ہو چکی ہے اور اس سے منسلک گروپ شام، عراق، یمن اور شمالی افریقہ میں متحرک ہیں۔

رواں ہفتے منگل کو امریکی صدر باراک اوباما نے افغان صدر حامد کرزئی کو خبردار کیا تھا کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کے لیے دو طرفہ سکیورٹی معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں امریکہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے اپنی تمام فوجیں نکال لے گا۔

صدر حامد کرزئی امریکہ کے ساتھ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کے لیے دو طرفہ سکیورٹی معاہدہ کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اگر امریکی فوج افغانستان سے مکمل طور پر نکل جاتی ہے ۔۔۔ تو القاعدہ کے خطے میں دوبارہ فعال ہونے کا امکان ہے: ایڈمرل میک ریون

امریکہ کا اصرار ہے کہ جب تک مذکورہ سکیورٹی معاہدہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک امریکہ یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ وہ انخلا کے بعد بھی اپنے کچھ فوجی افغانستان میں چھوڑ جائے گا جو سکیورٹی اور افغان فوجیوں کی تربیت کا کام سنبھالے رکھیں گے۔

صدر براک اوباما نے افغان صدر حامد کرزئی کو بتایا ہے کہ چونکہ وہ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکاری ہیں اس لیے امریکہ نے 2014 کے اختتام تک اپنی تمام افواج کو افغانستان سے نکالنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

امریکی صدر نے پینٹاگون کو ہدایت کی ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں 2014 کے اختتام تک تمام امریکی افواج کےافغانستان سے انخلا کی منصوبہ بندی کرے۔

صدر حامد کرزئی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے دور صدارت میں دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔ صدر حامد کرزئی کا اقتدار جولائی میں ختم ہو جائے اور وہ افغانستان کے آئین کی رو سے تیسری بار انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

افغان لویا جرگے نے گذشتہ برس امریکہ سے معاہدے کی منظوری دے دی تھی تاہم صدر کرزئی نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایساف افواج نے سنہ 2013 میں پورے افغانستان کی سکیورٹی افعان فوج کے حوالے کر دی تھی تاہم اب بھی وہاں 97 ہزار غیر ملکی فوجی موجود ہیں جن میں سے 68 ہزار فوجی امریکی ہیں۔

اسی بارے میں