استاد کی نشانی، پٹائی والا بیلٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سر ایلیکس فرگسن نظم و ضبط کے معاملے میں کافی سخت تھے

مانچسٹر یونائیٹڈ کے سابق مینیجر سر ایلیکس فرگسن کا کہنا ہے کہ ان کی پسندیدہ استاد ’ایک سخت مزاج خاتون تھیں جن کے پاس ایک لاجواب چیز تھی جس کی مدد سے وہ انہیں پیٹا کرتی تھیں۔‘

72 سالہ فرگسن گلاسگو میں پلے بڑھے اور ان کا کہنا ہے کہ جس ’بیلٹ‘ سے انہیں مارا گیا اور اب بھی ان کے گھر میں پڑ ھنے کے کمرے میں موجود ہے۔

سر ایلیکس کا کہنا ہے کہ ان کی استاد ’ایلزبتھ ٹامسن‘ قابلِ تقلید شخصیت تھیں جنہوں نے انہیں جذبہ اور آگے بڑھنے کی لگن دی۔

ٹائم ایجوکیشنل سپلیمنٹ میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں انہوں نے ایلزبتھ ٹامسن کو اپنی پسندیدہ استاد قرار دیا۔ وہ سنہ 1940 سے 1950 تک ان کی پرائمری کی استاد رہیں۔

برطانیہ کے سرکاری سکولوں میں ہر قسم کی جسمانی سزا پر 1987 میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

فرگسن کو مارے جانے پر کوئی شکایت نہیں، انہیں اکثر کھیل کے میدان میں لڑنے پر مار کھانا پڑی۔

سر ایلیکس کہتے ہیں کہ ان کے اساتذہ نے انہیں کبھی ہار نہ ماننا سکھایا ہے اور اسی چیز نے ان کی کردار سازی میں مدد دی۔

ان کا کہنا ہے کہ ایلزبتھ ٹامسن نے ان سے اس وقت رابطہ کیا جب وہ رینجرز کلب کے ساتھ کھیلا کرتے تھے اور تب سے ان کی وفات تک دونوں میں رابطہ قائم رہا۔

ایلزبتھ ٹامسن کی وفات کے بعد ان کے خاندان نے وہ بیلٹ انہیں بھجوائی۔

انہوں نے ٹائم ایجوکیشنل سپلیمنٹ کو بتایا کہ ’میں ان کی آخری رسومات میں نہیں جا سکا کیونکہ مانچسٹر یونائٹڈ کے ملک سے باہر میچ ہو رہے تھے لیکن کچھ ماہ بعد مجھے ایک پارسل ملا۔‘

’انہوں نے اپنی بیلٹ مجھے ورثے میں دے دی تھی۔ ان کے بھتیجے نے وہ مجھے بھجوائی جس کے ساتھ ان کا خط بھی تھا۔‘

خط کی تحریر تھی: ’ تم اس بیلٹ کے بارے میں کسی بھی دوسرے انسان سے زیادہ جانتے ہو۔‘

ایلیکس بتاتے ہیں کہ ’یہ بیلٹ آج بھی میرے مطالعے کے کمرے میں موجود ہے۔‘

’میرے پوتے پوتیاں اس سے خوفزدہ ہیں۔ لیکن میرے خیال میں یہ وہ سزا تھی جو ہمیں ہماری حدود سے باہر جانے پر ملتی تھی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کے اساتذہ کے لیے شاگردوں کی نظروں میں بہت احترام ہو کرتا تھا۔ انہیں یاد ہے کہ ایلزبتھ ٹامسن کی شادی میں شرکت کے لیے وہ 11 برس کی عمر میں اپنے دوستوں کے ساتھ گلاسگو کے ایک متمول علاقے میں گئے تھے۔

ایلیکس کا کہنا ہے کہ ’اب جب میں ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے وہ سب محض تعلیم کے لیے نہیں تھا۔‘

’مسز ٹامسن کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کے شاگرد اپنی زندگیوں میں بہترین انسان بن سکیں۔‘

سر ایلیکس فرگسن 26 سال کی خدمات کے بعد مانچسٹر یونائٹڈ کے مینیجر کی حیثیت سے گذشتہ برس مئی میں ریٹائر ہوئے۔

سر ایلیکس فرگسن نظم و ضبط کے معاملے میں کافی سخت تھے اور وہ کھلاڑیوں پر چلانے کے معاملے میں شہرت رکھتے تھے۔

وہ ’شائن‘ کے نام سے ایک تعلیمی فلاحی ادارے کی معاونت بھی کرتے ہیں۔

اسی بارے میں