پناہ کے متلاشیوں سے آسٹریلوی عوام کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ sorry
Image caption اس ویب سائٹ پر لوگوں کی جانب سے اب تک 250 تصاویر پوسٹ کی جا چکی ہیں

آسٹریلیا میں پناہ کے لیے آنے والے تارکینِ وطن کے معاملے میں آسٹریلوی حکومت کی پالیسیز پر جاری تنازعے کے بعد ایک شخص نے اس بحث کو انسانیت کے سطح پر لانے کا مشورہ دیا ہے۔

میلبرن سے تعلق رکھنے والے رائن شیلز نے ایک ویب سائٹ شروع کی ہے جس میں تارکین وطن کے ساتھ پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد معذرت کے پیغامات کے ساتھ کئی آسٹریلوی شہریوں کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔

رائن کا کہنا ہے اس ویب سائٹ پر لوگوں کا کافی اچھا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے جس پر اب تک 250 تصاویر پوسٹ کی جا چکی ہیں۔

اس کا مقصد حال ہی میں ایک شخص کی زیرِ حراست ہلاکت کے بعد آسٹریلیا کی ساحل سے دور قید کی پالیسی پر سوال اٹھانا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسیز کی وجہ سے کئی زندگیاں بچی ہیں اور پناہ کی تلاش میں آنے والوں کی کئی کشتیوں کو ملکی ساحل تک پہنچنے سے روکا گیا ہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے فروری کے اوائل میں کہا تھا کہ ’پالیسیز سخت لیکن کارآمد ہیں۔‘

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق آسٹریلوی عوام کی اکثریت حکومت کے طریقہ کار کی حمایت کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ sorry
Image caption آسٹریلیا کے حکام پناہ کی تلاش میں آنے والے غیرملکیوں کو ساحل سے دور حراستی مراکز رکھا جاتا ہے

رائن شیلز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’sorryasylumseekers.com نامی یہ ویب سائٹ بے یارومددگار ہونے کے احساس کے تحت شروع کی گئی ہے۔ آسٹریلیا میں پناہ کے معاملے پر بحث بہت گرم ہے اور معاملہ حساس اور ناگوار ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے لیے یہ سائٹ اچھی یا بری پالیسیز یا سیاستدانوں کے بارے میں نہیں ہے لیکن اس جو لوگ تشدد سے بھاگ کر آ رہے ہیں ان کے ساتھ انسانی اور ہمدردارنہ سلوک روا رکھا چاہیے۔‘

’میرا خیال ہے کہ اگر ہم ان باتوں پر اتفاق کرتے ہیں تو ہم پالیسیز کے بارے میں ایک قابلِ قدر بحث کر سکتے ہیں۔‘

آسٹریلیا کے حکام پناہ کی تلاش میں آنے والے غیرملکیوں کو ساحل سے دور حراستی مراکز رکھا جاتا ہے۔

ان مراکز میں صورتحال پر اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے ادادروں نے سخت تنقید کی ہے۔

لیکن آسٹریلیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیز کی وجہ سے سمگلرز کی روک تھام ہوئی ہے اور پناہ کے متلاشیوں کی سمندر میں کشتیوں پر خطرناک سفر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ sorryasylumseeker.com