چین: 29 افراد کا قتل، ’سینکیانگ کے شدت پسند ملوث ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام نے اس کارروائی کو ایک ’منظم، سوچی سمجھی دہشتگرد کارروائی‘ قرار دیا ہے

چین میں سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق جنوب مغربی علاقے کُنمنگ میں چاقوں سے مسلح حملہ آوروں نے ایک ٹرین سٹیشن پر 29 افراد کو قتل کر دیا ہے۔

چین کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سینکیانگ کے شدت پسندوں نے یہ حملہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ اس حملے میں 113 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس حملے کی وجہ کیا تھی یا اس حملے میں کون ملوث ہے۔

تاہم حکام نے اس کارروائی کو ایک ’منظم، سوچی سمجھی دہشتگرد کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق پانچ حملہ آوروں کو موقعے پر ہی ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم ان کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اندھا دھند لوگوں پر چاقووں سے وار کرنا شروع کر دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جائے وقوع پر بہت سے لوگ اپنے لواحقین کی تلاش میں مصروف ہیں

اس واقعے میں زخمی ہوئے ینگ ہائی فے نے ژنہوا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ٹکٹ خرید رہے تھے تو حملہ آوروں نے سٹیشن پر حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’ان میں سے زیادہ تر نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے۔ میں نے ایک شخص کو لمبا چاقو تھامے اپنی جانب آتے دیکھا تو میں بھاگ گیا۔ جو لوگ بھاگنے کے قابل نہیں تھے یا آہستہ بھاگے انہوں مار دیا گیا۔‘

جائے وقوع پر بہت سے لوگ اپنے لواحقین کی تلاش میں مصروف ہیں۔

چین میں سماجی روابط کی ویب سائٹوں پر کچھ صارفین اس واقعے کی تصاویر لگا رہے ہیں تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اتارا جا رہا ہے۔

بی بی سی کو ملنے والی تصاویر میں لوگوں کو حملے کے فوراً بعد زمین پر خون میں لت پت پڑا دیکھا جا سکتا ہے۔

چینی صدر اور وزیراعظم نے متاثرہ افراد سے اظہارِ تعزیات کیا ہے اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں سیکورٹی کے اعلیٰ ترین اہلکار منگ جیانجو کُنمنگ کا دورہ کریں گے۔

اسی بارے میں