یوکرین میں فوجی مداخلت کے نتائج ہونگے: صدر اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس اور یوکرین کے درمیان سابق صدر وکٹر یانوکووچ کی برطرفی کے بعد تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے یوکرین میں روسی فوج کی نقل و حرکت کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روس کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی فوجی مداخلت کے نتائج بھی ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس سے بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ یوکرین کی خودمختیاری اور سرحدوں کی کسی قسم کی بھی خلاف ورزی سے شدید عدم استحکام پیدا ہوگا جو یوکرین، روس یا یورپ کے مفاد میں نہیں ہے۔

’روس مسلح تصادم پر اکسانے کی کوشش کر رہا ہے‘

’یوکرین کے ان معاملات میں مداخلت کرنا جنھیں لازمی طور پر یوکرین کی عوام نے طے کرنا ہے، روس کے یوکرین کی آزادی، خومختاری اور سرحدوں کے احترام کے عزم کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔‘

براک اوباما نے یوکرین میں روس کی طرف سے ممکنہ مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’ چند دن پہلے ہی دنیا بھر سے لوگ اولمپکس کھیلوں میں شرکت کے لیے روس آئے تھے اور اب پوری دنیا سے کسی قسم کے مداخلت کی مذمت ہوگی۔ درحقیقت امریکہ اس بات کی تائید کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کھڑا ہو گا کہ یوکرین میں کسی بھی فوجی مداخلت کے نتائج بھی ہوں گے۔‘

انھوں نے یوکرین کی طرف سے روس کی ساتھ کشیدگی کے دوران اپنے آپ کو قابو میں رکھنے کو سراہا۔

صدر براک اوباما نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یوکرین میں روسی مداخلت کی صورت میں امریکہ کس نوعیت کا ردِ عمل ظاہر کرے گا۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار بیتھ مکلیوڈ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ماسکو کے ساتھ قریبی تجارتی روابط کو ختم کرنے کے ذریعِے روس پر معاشی دباؤ ڈالنے پر غور کر رہا ہے۔ روس امریکہ کے ساتھ تجارتی روابط کو مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر ویٹالی چیورکین نے کہا ہے کہ کرئمیا میں کوئی بھی روسی فوجی نقل و حرکت روس کا یوکرین کے ساتھ فوجی تعیناتی کے سمجھوتے کے تحت ہے۔

انھوں نے کرائمیا روسی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے تفصیل نہیں بتائی۔

علاوہ ازیں یوکرین کے عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کرائمیا میں اپنے فوجی تعینات کر کے یوکرین کو ’مسلح تصادم‘ پر اشتعال دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹی وی پر ایک بیان میں عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف نے کہا کہ روس چاہتا ہے کہ یوکرین کو اشتعال دلایا جائے تاکہ کرائمیا پر قبضہ کیا جا سکے۔

اس سے پہلے یوکرین کی عبوری حکومت کے وزیرِ داخلہ آرسین آوکوف نے روس پر ’مسلح چڑھائی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روسی ملٹری فورسز نے کرائمیا میں سیواستوپول ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔

تاہم بحیرۂ اسود میں موجود روسی بحری بیڑے نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ اس واقعے میں روسی فوجی ملوث ہیں۔

یوکرین کے ایک اعلیٰ اہلکار سرگئی کونسٹین نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ 13 ہوائی جہاز سمفروپول کے قریب ایک فوجی اڈے پر اترے ہیں اور ان جہازوں میں دو ہزار روسی فوجی سوار تھے تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

جمعے کو مسلح افراد، جنھیں آرسین آواکوف نے روسی فوج قرار دیا، بحیرۂ اسود میں روسی بحری بیڑے کے مرکز کے قریب سیواستوپول ایئرپورٹ پر داخل ہوئے ہیں۔

دوسری جانب یوکرین کے سابق صدر وکٹر یانوکووچ نےملک سے فرار ہونے کے بعد پہلی بار روس میں منظر عام پر آ کر اپنے ملک کے لیے’ جنگ جاری رکھنے‘ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

یانوکوچ نے جمعے کو روس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا تختہ پلٹا نہیں بلکہ انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیاگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں کرائمیا میں پیدا ہونے والی گشیدگی کی سمجھ آتی ہے لیکن ان کے خیال میں ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ یوکرین متحد رہے۔

انہوں نے یوکرین کے عوام سے معافی مانگی کہ ان کے پاس استحکام قائم رکھنے کے لیے ناکافی قوت تھی جس کی وجہ سے ملک میں ’لاقانونیت‘ کی فضا پیدا ہوئی۔

روس اور یوکرین کے درمیان سابق صدر وکٹر یانوکووچ کی برطرفی کے بعد تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔

جمرات کو روس کے حامی مسلح افراد سمفروپول میں پارلیمنٹ میں داخل ہوئے اور موجودہ کابینہ کو نکال کر نیا وزیرِاعظم مقرر کر دیا تھا۔

اسی بارے میں