اسرائیل: قدامت پسند یہودیوں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’اگر ہمیں فوج میں جانے پر مجبور کیا گیا تو اس سے ہمارے مذہبی عقائد کو خطرہ لاحق ہوگا۔‘

اسرائیل میں لاکھوں قدامت پسند یہودیوں نے یروشلم میں اجتماعی عبادت کی ایک احتجاجی تقریب منعقد کی ہے جس کا مقصد حکومت کی جانب سے نوجوان یشوا طالب علموں پر فوجی سروس کو لازمی قرار دینے کے ایک منصوبے کی مخالفت ہے۔

اس نئے قانون کے آئندہ چند ہفتوں میں پاس ہونے کی توقع ہے اور اس کے تحت یہودی درسگاہوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو فوجی سروس سے دی گئی چھوٹ منسوخ کر دی جائے گی۔

اس مجوزہ قانون میں انتہائی قدامت پسند یہودیوں کے لیے فوجی اور سویلین سروس میں کوٹہ رکھا گیا ہے۔ جو لوگ اس سروس سے انکار کریں گے انہیں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

قدامت پسند یہودیوں کے اس احتجاجی مظاہرے میں یروشلم کو جانے والے مرکزی راستے کو بند کر دیا گیا اور کئئ روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے۔

کالی ٹوپیوں اور کوٹوں میں ملبوس مردوں اور نوجوانوں نے احتجاج کیا اور انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’برائے مہربانی مجھے میرے بھائیوں سے بچاؤ‘ اور ’مقدس توریت جیت جائے گی۔‘

مذہبی رہنمائوں نے احتجاج کے دوران نئے قانون کے خلاف دعائیں بھی مانگیں۔

اس مظاہرے میں غیر عمومی طور پر قدامت پسند یہودیوں کے تینوں بڑے دھڑوں میں یکجہتی دیکھی گئی۔

قدامت پسند یہودیوں کا کہنا ہے کہ فوجی سروس انہیں یہودی مذہبی کتابوں کی تعلیم کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے میں رکاوٹ بنے گی اور اس تعلیم کو یہودی طرزِ زندگی کا اہم جز مانا جاتا ہے۔

مظاہرے میں شریک ایک طالبِ علم کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے تعلیمی سفر میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔ اگر ہمیں فوج میں جانے پر مجبور کیا گیا تو اس سے ہمارے مذہبی عقائد کو خطرہ لاحق ہوگا۔‘

اس حوالے سے انہوں نے مثال دی ’ہمیں خواتین کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پڑے گا۔ ہماری تربیت ایسے نہیں کی گئی۔‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت قدامت پسند یہودیوں کو فوجی سروس سے چھوٹ دی گئی تھی تاہم اس وقت صرف 400 یشوا طالب علم تھے۔

بچوں کی پیدائش کی بلند شرح کے سبب قدامت پسند یہودی اب اسّی لاکھ آبادی کے ملک کا تقریباً دس فیصد ہیں۔

قدامت پسند یہودی قدرے غریب طبقہ ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اپنی مذہبی تعلیم کی وجہ سے بے روز گار ہوتے ہیں اور ان کا گزارا عطیات، ریاستی چندے اور بیویوں کی آمدنی پر ہوتا ہے۔

اسی بارے میں