یوکرین: روس کی مداخلت کے بعد ریزرو فوج طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین کا الزام ہے کہ روس نے کرائمیا میں اپنے فوجی بھیجے رکھے ہیں اور وہ اس علاقے میں اشتعال پھیلا رہا ہے

یوکرین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کریمیا کے خطے میں روسی فوج کی مداخلت کے بعد ملک کی ریزرو فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔

یوکرین کے قائم مقام صدر اولیکسانڈر ٹرچی نوف نے پہلے ہی جوہری پلانٹس سمیت ملک کے اہم مقامات پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔

یوکرین نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور برطانیہ سے مدد کی طلب گار ہے۔ اسی سلسلے میں نیٹو کا ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔

نیٹو کے اجلاس میں کریمیا میں جاری کشیدگی کی صورتحال پر تبادلہِ خیال کیا جائے گا۔ یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے نیٹو اتحاد سے گذارش کی تھی کہ ان کے ملک کے وقار کی بقا کے لیے ہر ممکن راستوں پر غور کیا جائے۔

یوکرین کی اپنی فوج پہلے سے چوکس ہے اور ملک کے عبوری وزیر اعظم نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اس نے جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا اور کیئف کے ساتھ تعلقات ختم کر دیے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادمیر پوتن سے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں فوج بھیج کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

90 منٹ کے دورانیے کے ٹیلی فون پر گفتگو میں صدر براک اوباما نے روسی صدر پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں اپنی فوجوں کو کریمیا کے فوجی آڈوں پر واپس بلائے۔

روسی حکام کے مطابق ولادمیر پوتن نے جواب میں کہا کہ ماسکو اپنے اور یوکرین میں روسی بولنے والوں کی مفادات کا دفاع کرنے کا حق رکھتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر براک اوباما نے صدر ولادمیر پوتن سے کہا کہ کسی قسم کے خدشات کو دور کرنے کا صحیح طریقہ یوکرین کی حکومت اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے’پرامن براہ راست مذکرات‘ ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما نے روس کی طرف سے یوکرین کے سرحدوں اور خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر شدید خدشات کا اظہار کیا۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ولادمیر پوتن نے صدر براک اوباما کے ساتھ ٹیلی فون پرگفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ’یوکرین کی سرزمین پر روسی شہریوں اور دیگر حامیوں کی زندگیوں اور صحت کو حقیقی خطرہ ہے۔‘

یوکرین میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی گئیں ہیں۔ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے کہا کہ انھوں نے یورپی ممالک اور کینیڈا کے وزرا خارجہ، امریکہ میں جاپان کے سفیر اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیترین ایشٹن سے ’آئندہ کا لاحۂ عمل طے کرنے کے لیے‘ بات چیت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی’حالات کو فوری طور قابو میں لا کر براہ راست مذکرات شروع‘ کرنے کی بات کی ہے جبکہ نیٹو کے سربراہ اندرس فوغ راس موسین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ’کریمیا میں حالات کو فوری طور قابو میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔‘

یوکرین کے بحران پر غور کے لیے سنیچر کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس منعقع ہوا جبکہ اس معاملے پر نیٹو اور یورپی یونین کے حکام آئندہ چند دنوں میں بات چیت کریں گے۔

ادھر یوکرین نے روسی پارلیمان کے ایوانِ بالا کی طرف سے صدر ولادمیر پوتن کو یوکرین میں روسی فوج بھیجنے کی اجازت دینے کے بعد، اپنے مسلح افواج کو چوکس رہنے کا حکم دیا ہے۔

یوکرین کے عبوری صدر اولیکسانڈر ٹرچی نوف نے کہا کہ ملک کی مسلح افواج کو انتہائی چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور روس کی طرف سے کسی بھی فوجی مداخلت سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

صدر ٹرچی نوف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ملک کے جوہری بجلی گھر، ہوائی اڈوں اور دوسری اسٹریٹیجک تنصیبات پر سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے جبکہ قومی سلامتی اور دفاع کی کونسل نے کسی بھی فوجی جارحیت سے نمٹنے کے لیے ایک تفصیلی منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔

یوکرین کا الزام ہے کہ روس نے کریمیا میں اپنے فوجی بھیجے رکھے ہیں اور وہ اس علاقے میں اشتعال پھیلا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے کریمیا میں فوجی ہلچل جاری ہے جس میں روس نواز مسلح افراد نے صوبائی کابینہ، سرکاری ٹیلی ویژن سینٹر اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ذرائع پر قبضہ کر لیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں انھوں نے علاقے میں روسی بکتر بندگاڑیوں کی نقل و حمل بھی دیکھی ہیں۔

اسی بارے میں