امریکہ کی اسرائیل کو اندرونی خلفشار کی تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِاعظم کے درمیان پیر کو ملاقات ہو ر ہی ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے فلسطین کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے امریکہ کے طریقۂ کار پر عمل نہ کیا تو وہ اندورنی خلفشار کا شکار ہو جائے گا۔

مذاکرات سے قبل امریکی صدر نے بلوم برگ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کو اس موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

لیکن بنیامن نتن یاہو نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ وہ دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

تین سال کے تعطل کے بعد گذشتہ سال جولائی میں امن مذاکرات کی بحالی کے بعد سے اب تک بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔

فی الوقت واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ ایک دہائی پرانے اس مسئلے کے حل کے لیے 29 اپریل تک کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش میں ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اہم مسائل پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے لیے مذاکرات دی گئی تاریخ سے آگے جا سکتے ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والی ملاقات میں نتن یاہو کی کوشش ہو گی کی ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات کی جائے۔

اسرائیلی وزیر اعظم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں تہران کے ساتھ مذاکرات میں نادانی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور انہوں نے ایران کو ایک قلیل مقدار میں یورینیئم کی افزودگی کی اجازت دینے کی مخالفت کی تھی۔

تاہم ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر اوباما غیر متوقع طور پر اسرائیلی وزیراعظم پر فلسطین کے ساتھ امن مذاکرات کے سلسلے میں دباؤ ڈالیں گے۔

امریکی صدر اوباما چاہتے ہیں کہ وہ امن مذاکرات پر وزیرِ خارجہ جان کیری کے تیار کردہ مسودے پر اتفاق کر لیں۔ یہ دستاویز تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئی۔

جن اہم مسائل کو اس مجوزہ معاہدے کا حصہ بنایا گیا ہے اس میں اسرائیل اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحد اور یروشلم کی حیثیت شامل ہیں، جس کے بارے میں اسرائیل کا اصرار ہے کہ اسے اسرائیلی ریاست قرار دیا جائے جبکہ فلسیطینی حکومت کا مطالبہ ہے کہ فلسیطینوں کو ان کے گھروں میں واپس جانے دیا جائے جو اب اسرائیل کے زیرِ انتظام ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی پٹی میں حفاظتی انتظامات کیے جائیں جہاں اسرائیل وادیِ اردن میں طویل عرصے تک موجودگی چاہتا ہے۔

بلوم برگ کو دیے گئے انٹرویو میں براک اوباما نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو متنبہ کریں گے کہ امن معاہدے کے لیے مہلت ختم ہو رہی ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی پٹی میں متنازع یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رہی اور امن مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکہ اسرائیل کے اندرونی خلفشار کو روک نہیں پائے گا۔ یہ بات انہوں نے فلسطین کی جانب سے اسرائیل کو جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں لے جانے اور اس کے خلاف بائیکاٹ کی مہم کے حوالے سے کہی۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس 17 مارچ کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کو بطور ریاست قبول کرنے کو تیار ہیں اور وہ اس کی جائز سکیورٹی ضروریات کو تسلیم کرتے ہیں تاکہ ہر ممکن طور پر تشدد سے بچا جا سکے۔ امریکی صدر کے بقول محمود عباس اس مسئلے کا سفارتی حل چاہتے ہیں اور اس طریقے سے اسرائیلی لوگوں کے خدشات بھی دور ہوں گے۔

’میرا خیال ہے کہ یہ نایاب خوبی ہے نہ صرف فلسیطینیوں میں بلکہ عمومی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں، اگر ہم اس موقعے سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو یہ ایک بڑی غلطی ہو گی۔‘

دوسری جانب جب نتن یاہو نے چینل 2 ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں کسی دباؤ میں نہیں آؤں گا۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’یہ ایک اچھا معاہدہ ہونا چاہییے۔ میں اپنی ریاست کے مفاد کے لیے ڈٹا رہوں گا۔‘

اسرائیل کے سٹریٹیجک امور کے وزیر نے اسرائیل کے فوجی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’نتن یاہو ایک واضح پیغام دیں گے۔ ہم امن کے لیے تیار ہیں، ہم سفارتی حل چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے قومی تحفظ کے لیے پریشان بھی ہیں۔‘

اسی بارے میں