فوج بھیجنے کی درخواست یانوکووچ نے کی تھی: روس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اطلاعات کے مطابق روسی فوجوں نے کرائمیا میں تعینات یوکرینی فوجیوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ منگل کی صبح تک ہتھیار پھینک دیں

اقوامِ متحدہ میں روس کے مندوب نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے معزول صدر وکٹر یانوکووچ نے روس سے اپنے عوام کے تحفظ کے لیے فوجیں بھیجنے کو کہا تھا۔

وٹالی چورکن نے یہ بات پیر کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران کہی جو یوکرین کے علاقے کرائمیا میں ہزاروں روسی فوجیوں کی موجودگی کے معاملے پر طلب کیا گیا تھا۔

روسی نمائندے کا کہنا تھا کہ وکٹر یانوکووچ نے روسی صدر ولادی میر پوتن کو اس بارے میں سنیچر کو تحریری پیغام دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’دارالحکومت کیئف میں ہونے والے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین خانہ جنگی کے قریب تھا۔ ملک میں انارکی تھی اور خاص کر کرائمیا میں عوام کی جان اور ان کے حقوق کو خطرات لاحق تھے۔‘

وٹالی چورکن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مغربی ممالک کےاثر و رسوخ کی بنا پر ملک میں کھلے عام پرتشدد کارروائیاں ہو رہی تھیں اور اسی لیے روسی صدر سے کہا گیا تھا کہ وہ یوکرین کی عوام کے دفاع ، ملک میں استحکام اور امن و امان کے قیام کے لیے روسی فوجیں بھیجیں۔‘

اس بیان کو روس کی جانب سے کرائمیا میں فوج کشی کی توجیح سمجھا جا رہا ہے تاہم مغربی ممالک کے سفیروں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

روس کی جانب سے یوکرینی علاقے میں اپنی فوج بھیجے جانے کے عمل پر سخت عالمی ردعمل سامنے آیا ہے اور امریکہ اور یورپی ممالک نے اس پر اقتصادی پابندیاں لگانے کی دھمکی بھی دی ہے۔

اس سے قبل امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ یوکرین کی خودمختاری کو پامال کر کے روس تاریخ میں بدنامی کما رہا ہے اور اسے اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین کی خودمختاری کو پامال کر کے روس تاریخ میں بدنامی کما رہا ہے: اوباما

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ روس کو تنہا کرنے کے لیے سفارتی اور اقتصادی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

پیر کو واشنگٹن میں امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم روسیوں کو بتا رہے ہیں کہ اگر وہ اسی راستے پر چلتے رہے جس پر وہ اب ہیں، تو ہم بہت سے اقتصادی اور سفارتی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں جن سے روس کو تنہا کیا جا سکے اور جو اُس کی معیشت اور دنیا میں اُس کے مقام پر منفی اثرات ڈالیں۔‘

براک اوباما نے یہ بھی کہا کہ یورپی رہنماؤں سے بات چیت کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ دنیا اس خیال پر ’بڑی حد تک متفق‘ ہے کہ روس نے یوکرین کی داخلی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اس سلسلے میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ کچھ یورپی ممالک روس پر اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

ادھر یوکرین کے سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ روسی فوجوں نے کرائمیا میں تعینات یوکرینی فوجیوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ منگل کی صبح تک ہتھیار پھینک دیں یا حملے کے لیے تیار ہو جائیں۔

یوکرین کے دفاعی ذرائع کے مطابق روس کی جانب سے یہ دھمکی بحیرہ اسود میں موجود روسی بحری بیڑے کے سربراہ الیگزینڈر وِکٹر نے دی ہے، لیکن خبر رساں ادارے ’انٹرفیکس‘ کے مطابق روسی بحری بیڑے کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کوئی الٹی میٹم نہیں دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئی گولی چلائے بغیر روسی فوجیوں نے کرائمیا پر گرفت مضبوط کر لی ہے

امریکی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر روس کی جانب سے یوکرینی فوج کو ہتھیار ڈالنے یا پھر حملے کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی گئی ہے تو یہ کرائمیا کے حالات کے تیزی سے بگڑنے کی نشانی ہے۔

مغربی ممالک کے دباؤ کے باوجود روس نے یوکرین کے علاقے کرائمیا پر اپنا عسکری کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں روسی فوجی کرائمیا میں فوجی اڈوں اور دوسری تنصیبات کو اپنے قابو میں کر رہے ہیں۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کا کہنا ہے کہ وہ علاقے میں روسی شہریوں اور انسانی حقوق کا دفاع کر رہے ہیں۔

کرائمیا کے علاقے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک لووِن نے بتایا ہے کہ اگرچہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی لیکن عملی طور پر کرائمیا پر روس کا کنٹرول ہے۔

ادھر یوکرین کی حکومت نے اپنی فوجوں کو پوری طرح تیار رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں اور مغربی دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔

دارالحکومت کیئف اور اس کے گر ونواح میں ہزاروں رضاکاروں نے یوکرین کو بچانے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنے نام بھی درج کروانا شروع کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں