بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے قطر سے تعلقات کشیدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیخ تمیم بن حمد جون 2013 میں قطر کے امیر بنے تھے

سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ طور پر قطر پر ان ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت میں کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے قطر سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔

خلیجی ملکوں کی تنظیم گلف کارپوریشن کونسل میں شامل ان تین ملکوں نے بدھ کو یہ اعلان ایک مشترکہ بیان میں کیا۔ خیال رہے کہ قطر بھی گلف کارپوریشن کونسل کا رکن ہے۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر تین ماہ قبل ریاض میں ہونے والے معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں قطر اور دیگر خلیجی ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سوموار کو ریاض میں ایک اجلاس میں تینوں ملکوں نے قطر کو یہ سمجھانے کی بڑی کوشش کی کہ وہ 2013 میں مشترکہ سکیورٹی کے معاہدے پر عمل درآمد کرے۔

سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے بیان میں کہا گیا کہ بڑے افسوس سے کہا جا رہا ہے کہ قطر معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تاہم بیان میں کوئی تفصیل اور کوئی تعین نہیں کیا گیا کہ قطر کی طرف سے کیا خلاف ورزی کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خلیجی ملکوں میں تعلقات روایتی طور پر برادرانہ رہے ہیں

ان ملکوں کے مطابق ان کی اپنی سکیورٹی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھا کہ قطر سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا جائے۔

قطر نے اس فیصلے پر ’افسوس اور حیرانی‘ کا اظہار کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ ان ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس نہیں بلائے گا۔

خلیجی ملکوں میں حالیہ برسوں میں پیدا ہونے والا یہ سب سے بڑا اختلاف ہے۔

قطر کا الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کے ٹی وی چینل کی انگریزی اور عربی زبانوں میں نشریات دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں اور اکثر اس کی خبروں اور تجزیوں میں خلیجی ممالک کے اندوری مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے اور خلیجی اور عرب حکومتوں کی پالیسیوں پر تنقیدی جائزے اور تجزیے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

قطر مصر میں اخوان المسلمین کا سب سے بڑا حمایتی ہے جب کہ اس تنظیم پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پابندی ہے۔

الجزیرہ کے تین نمائندے مصر میں گذشتہ کئی مہینے سے قید ہیں۔