’سنوڈن کے نقصان کی تلافی کے لیے دو سال درکار‘

مارٹن ڈیمپسی(دائیں) تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ چیلنج اتنا بڑا ہے کہ ٹاسک فورس کو دو برس تک کام کرنا پڑے گا: مارٹن ڈیمپسی

امریکی فوج کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق امریکی قومی سلامتی ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی معلومات سے پہنچنے والے نقصان کی تلافی میں امریکہ کو دو برس اور اربوں ڈالر لگیں گے۔

امریکی جوائنٹ چیفس آفس سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ سنوڈن نے جو معلومات حاصل کی تھیں ان کی اکثریت کا تعلق فوج سے تھا۔

گذشتہ برس سے کئی عالمی اخبار ان خفیہ معلومات کی بنیاد پر درجنوں خبریں شائع کر چکے ہیں۔

ایڈورڈ سنوڈن کو امریکہ میں جاسوسی کے الزامات کا سامنا ہے لیکن انھیں روس نے پناہ دی ہوئی ہے۔

جنرل ڈیمپسی نے جمعرات کو امریکی ایوان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ سنوڈن کی چوری اور اس سے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے دی گئی ہے۔

Image caption ایڈورڈ سنوڈن گذشتہ برس جون میں امریکہ سے فرار ہوگئے تھے

انھوں نے کہا کہ ’ہم اسی طریقے پر کام کر رہے ہیں جس پر ہمارے خیال میں کام کرتے ہوئے سنوڈن نے معلومات حاصل کیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس بارے میں خاصی معلومات حاصل ہو چکی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سنوڈن نے جو دستاویزات چرائیں’ان کی اکثریت ہماری فوجی صلاحیتوں، کارروائیوں، حکمتِ عملی، تکنیک اور طریقۂ کار کے بارے میں تھی۔‘

جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ ’یہ چیلنج اتنا بڑا ہے‘ کہ ٹاسک فورس کو دو برس تک کام کرنا پڑے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے اندازوں کے مطابق سکیورٹی کو پہنچنے والا نقصان پورا کرنے میں ’اربوں ڈالر لگ سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ ایڈورڈ سنوڈن گذشتہ برس جون میں امریکہ سے فرار ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں