انڈونیشیا: جانوروں کی سمگلنگ کے خلاف فتویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فتوے میں کہا گیا ہے معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کا شکار یا تجارت اسلام میں منع اور غیر اخلاقی ہے

انڈونیشیا کے اعلیٰ ترین مذہبی اسلامی ادارے نے جانوروں کے غیر قانونی شکار اور سمگلنگ کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔

فتوے میں انڈونیشیا کے مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کی غیر قانونی تجارت اور قدرتی ماحول کو بچایا جائے۔

ادارے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ لوگ حکومتی قوانین سے تو بچ سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں۔ فتوے کا مقصد انڈونیشیا میں پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کی تائید کرنا ہے۔

انڈونیشیا میں بہت سے ایسے جانور پائے جاتے ہیں جنہیں معدومی کا خطرہ ہے۔ ان میں بن مانس، چیتے اور ہاتھی شامل ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ یہ فتویٰ اپنی نوعیت کا پہلا فتویٰ ہے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مذہب کا استعمال مثبت اقدام ہے۔

انڈونیشیا میں نایاب جانوروں کی کئی نسلوں کو جنگلوں کے کٹنے، زراعت اور شہروں کے پھیلاؤ سے خطرہ ہے۔

فتوے میں کہا گیا ہے معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کا شکار یا تجارت اسلام میں منع اور غیر اخلاقی ہے۔ یہ فتویٰ قانونی طور پر تو لاگو نہیں کیا جائے گا تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے 20 کروڑ مسلمانوں کے لیے اس کا اخلاقی وزن ہوگا۔

انڈونیشیا کے موجودہ قوانین کے تحت خطرے سے دوچار جانوروں کی تجارت پر قید کی سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں