’یوکرین پر بات چیت مشکل تھی مگر جاری رہے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاورورف بدھ کو پیرس میں امریکی ہم منصب جان کیری سے ملے

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے یوکرین کے مسئلے پر روسی ہم منصب سرگے لاوروف سے ملاقات کو ’مشکل‘ قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ بات چیت کا عمل جاری رہے گا۔

بدھ کو پیرس میں روسی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

یوکرین بحران: امریکہ اور روس میں بات چیت

’فوج ابھی تک یوکرین میں بھیجنے کی ضرورت نہیں‘

جان کیری نے کہا کہ وہ خالی ہاتھ واپس صدر اوباما کے پاس نہیں جا رہے اور مذاکراتی عمل جاری رہے گا۔

پریس کانفرنس میں امریکی وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر کہا کہ روس کو یوکرین کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

امریکہ کی جانب سے روس اور یوکرین کی عبوری حکومت کے نمائندوں کی بالمشافہ ملاقات کی کوشش بھی ناکام رہی ہے اور روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف یوکرین کی عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ آندرے ڈیش چستیا سے ملاقات کیے بنا ہی پیرس سے روانہ ہوگئے ہیں۔

لاورورف نے بدھ کو پیرس میں امریکی ہم منصب جان کیری کے علاوہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزارئے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ جان کیری نے اپنی ملاقات میں سرگے لاوروف پر زور دیا تھا کہ وہ براہِ راست یوکرین کی عبوری حکومت سے بات کریں۔

روس سے روابط پر نظرِ ثانی

شمالی بحرِ اوقیانوس کے ممالک کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندریس فو راسموسین نے کہا ہے کہ یوکرین کی صورتحال کی وجہ سے تنظیم روس سے اپنے تمام روابط پر نظرِ ثانی کر رہی ہے۔

راسموسین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیٹو شام کے کیمیائی ہتھیار ناکارہ بنانے کے لیے روس کے ساتھ اپنے مشترکہ مشن کو بھی معطل کر رہی ہے تاہم اس کا اثر ہتھیاروں کی تباہی کے عمل پر نہیں پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ روس مسلسل یوکرین کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور نیٹو اب یوکرین سے اپنے تعلقات مضبوط کرے گی۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے اس بیان پر تنظیم میں روس کے مندوب نے نیٹو پر اپنے ملک کے تئیں سرد جنگ کے پیمانے لاگو کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا میں اپنے فوجی تعینات کر رہا ہے۔ امریکہ نے اسے ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا ہے جبکہ روس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے منگل کو یوکرین کے تنازع کے حل کے لیے روس سے کہا تھا کہ وہ کرائمیا میں موجود اپنے فوجیوں کو خطے میں موجود بحیرۂ اسود کے بحری بیڑے پر واپس بلا لے اور یوکرین میں عالمی مبصرین بھیجے جائیں جو وہاں کے رہائشی روسیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جان کیری نے سرگے لاوروف پر زور دیا کہ وہ براہِ راست یوکرین کی عبوری حکومت سے بات کریں

امریکی صدر کی جانب سے روسی صدر ولادی میر پوتن کو یہ تجویز ایسے وقت میں دی گئی ہے جب بظاہر کرائمیا روس کے کنٹرول میں ہے۔

امریکی صدر کے دفتر کے اہلکار کے مطابق صدر اوباما نے سنیچر کو اپنے روسی ہم منصب سے بات چیت میں انھیں اس منصوبے سے مطلع کیا تھا اور منگل کو انھوں نے اس بارے میں جرمن چانسل انگیلا میرکل سے تفصیلی بات چیت کی۔

اطلاعات کے مطابق بدھ کو روسی صدر ولادی میر پوتن نے بھی جرمن چانسلر سے فون پر بات کی ہے لیکن اس بات چیت کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

اسی بارے میں