’وزیر کے بیٹے کے غصے پر جہاز کو واپس بلانا پڑا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایئر لائن کے مطابق جہاز کو 21 منٹ کی پرواز کے بعد واپس ہوائی اڈے لوٹنا پڑا

جب عراق کی حکومت کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے بیٹے نے پرواز چھوٹ جانے پر غصے کا اظہار کیا تو لبنان سے عراق جانے والی ایک مسافر پرواز کو واپس موڑ دیا گیا۔

مڈل ایسٹرن ایئر لائن کا کہنا ہے کہ وزیر کے بیٹے نے بغداد فون کر کے حکام سے کہا کہ جہاز کو عراق میں اترنے نہ دیا جائے۔

ایئر لائن کے مطابق جہاز کو 21 منٹ کی پرواز کے بعد واپس لوٹنا پڑا۔

وزارتِ ٹرانسپورٹ نے واقعے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ہوائی اڈّے کی صفائی تھی۔

وزارت کے ترجمان نے روئٹرز سے کہا کہ وزیر کے بیٹے اس پرواز پر سفر نہیں کر رہے تھے۔ ترجمان کریم النوری کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈّے پر صفائی جاری تھی جس کے لیے مخصوص اقدامات کیے گئے تھے:

’ہم نے بغداد کے ہوائی اڈّے پر صبح نو بجے کے بعد تمام پروازوں کو روک دیا تھا۔ وزیر کے بیٹے کے بارے میں ملنے والی معلومات درست نہیں ہیں اور ہمارے وزیر ایسے رویے کو برداشت نہیں کرتے۔ ان کے بیٹے اس پرواز کے مسافر تھے ہی نہیں۔‘

تاہم ایئر لائن کے چیئرمین مروان صالحہ نے روئٹرز سے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی ’پریشان کن‘ اور ’اقربا پروری کی مثال‘ ہے۔

ادھر بغداد ہوائی اڈّے کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ جمعرات کو ہوائی اڈے پر پروازیں معمول کے مطابق آ رہی تھیں اور ہوائی اڈّے پر 30 پروازیں اتریں۔

مروان صالحہ نے بتایا کہ یہ پرواز جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق 1240 پر روانہ ہونی تھی مگر وہ چھ منٹ تاخیر سے اس لیے روانہ ہوئی کیونکہ عملہ مہدی الامیری کو ڈھونڈتا رہا جو کہ وزیرِ ٹرانسپورٹ ہادی الامیری کے بیٹے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب مہدی الامیری گیٹ پر پہنچے اور انہیں معلوم ہوا کہ پرواز روانہ ہو چکی ہے تو وہ انتہائی غصے میں آگئے اور انہوں نے عملے کو دھمکی دی کہ وہ جہاز کو بغداد میں اترنے نہیں دیں گے۔

مروان صالحہ کےمطابق پرواز کو بیروت واپس آنا پڑا اور اسے منسوخ کر دیا گیا جس کی وجہ سے 71 مسافروں کو متبادل ذرائع ڈھونڈنا پڑے۔

عراقی اور لبنانی حکام کے درمیان اس معاملے کو حل کرنے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

ہادی الامیری بدر نامی ایک تنظیم کے سربراہ ہیں جو ماضی میں شیعہ شدت پسند گروہ تھا تاہم اب وہ وزیراعظم نور المالکی کے اتحادی ہے۔

بہت سے عراقی شہریوں کا خیال ہے کہ منتخب رہنما اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان ایسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جسے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں۔

ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد سے ہادی الامیری اور ان کے بیٹے کا سماجی روابط کی ویب سائٹوں پر مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں