’امکان ہے کہ طیارہ فنی خرابی کے باعث واپس مڑا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سمندر میں تیل کی طہہ دیکھی گئی ہے

ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ ملک کی سرکاری فضائی کمپنی ملیشیا ائیر لائنز کے لاپتہ ہونے والا مسافر طیارہ فنی خرابی کے باعث واپس مڑا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ طیارے کی تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے ملائیشیا ائیر لائنز کے طیارے کو لاپتہ ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا ہیں تاہم کثیر الملکی ٹیم جنوبی ویتنام کے سمندر میں اب بھی اس کی تلاش کر رہی ہے۔

ادھر ویتنامی فضائیہ کے طیاروں نے سمندر میں دو مقامات پر تیل کی طہہ دیکھنے کی اطلاع دی ہے جو ممکنہ طور پر لاپتہ طیارے کے ایندھن کی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

اپنے پیاروں کی ’خبر‘ کا انتظار، تصاویر

طیارے پر 227 مسافروں میں سے 153 افراد چین کے باشندے تھے جبکہ 38 کا تعلق ملائیشیا، سات انڈونیشیا، سات آسٹریلیا، پانچ بھارت سے اور چار کا تعلق امریکہ سے ہے۔ ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی ملائیشیا ایئر لائن کے مطابق اس بوئنگ 777 طیارے پر دو شیرخوار بچوں سمیت 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔

وزیرِ ٹرانسپورٹ نے مزید بتایا کہ انسدادِ دہشتگردی کے حکام بھی مسافر فہرست کا جائزہ لے رہے ہیں اور چند لوگوں کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیرِ ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ انسدادِ دہشتگردی کے حکام بھی مسافر فہرست کا جائزہ لے رہے ہیں

اطلاعات ہیں کہ طیارے کے مسافروں کی فہرست میں شامل دو افراد چوری شدہ پاسپورٹوں پر سفر کر رہے تھے۔ پاسپورٹوں کے حقیقی مالکان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان میں ایک اٹلی اور ایک آسٹریلیا کا باشندہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے پاسپورٹ تھائی لینڈ میں چوری کر لیے گئے تھے۔

طیارے کی گمشدگی میں کسی قسم کی دہشت گردی کے امکان پر ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ ’ہم تمام تر امکانات پر غور کر رہے ہیں ابھی اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ ‘

تلاش کا عمل ملائیشیا اور ویتنام کے درمیان واقع سمندر میں جاری ہے جس میں ویتنام، ملائیشیا، چین اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے حکام تعاون کر رہے ہیں۔

جنوبی چین کے سمندر میں جہاں یہ طیارہ لاپتہ ہوا ہے، وہ ایک متنازعہ سمندری علاقہ ہے تاہم اس وقت تنازع کو ایک طرف رکھتے ہوئے چین نے دو جہاز علاقے میں بھیجے ہیں۔ فلپائن نے بھی مسافر طیارے کی تلاش کے لیے ائیر فورس کے تین جہاز اور نیوی کے تین بحری گشتی جہاز بھیجے ہیں۔

اندھیرا ہونے کی وجہ سے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے تلاش کا عمل روک دیا ہے تاہم کشتیوں کی مدد سے یہ کارروائی جاری ہے۔

ملائیشیا ایئر لائن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ایم ایچ 370 نامی پرواز جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب رات دو بج کر 40 منٹ پر کوالالمپور کے ہوائی اڈے سے اڑی تھی اور اسے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے بیجنگ پہنچنا تھا مگر پرواز کے دوران یہ طیارہ لاپتہ ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملائیشیا ایئر لائن ایشیا کی بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک ہے

کمپنی کا کہناتھا کہ پرواز کے دو گھنٹے بعد طیارے کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہوگیا اور وہ مقررہ وقت سے کئی گھنٹے بعد بھی منزلِ مقصود پر نہیں پہنچا جس کے بعد حکام نے اس کی تلاش شروع کر دی۔

ادھر ویتنام کے ریاستی میڈیا کے مطابق ویتنامی بحریہ کے ایک افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ گمشدہ طیارہ جنوب مشرقی چینی سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے تاہم ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے کہا بتایا تھا کہ لاپتہ ہوتے وقت طیارے سے ریڈار کا رابطہ ممکنہ طور پر ویتنام کی فضائی حدود میں منقطع ہوا۔

ژنہوا کا کہنا تھا کہ مذکورہ طیارہ چین کی فضائی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے عملے نے چینی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔

ملائیشیا ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹوو احمد جوہاری یحییٰ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ طیارے پر 14 قومیتوں کے مسافر شامل تھے اور ایئر لائن تمام مسافروں کے لواحقین سے رابطے کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پرواز کے کپتان ظہارے احمد شاہ تھے جنہوں نے 1981 میں ملیشیا ایئر لائن میں ملازمت اختیار کی۔

بوئنگ 777 طیاروں کی بیس سالہ تاریخ میں پہلا حادثہ جولائی 2013 میں اس وقت ہوا جب آسینا ایئر لائن کی ایک پرواز کو سان فرانسسکو کے ہوائی اڈّے پر ہنگامی لینڈگ کرنا پڑی تھی۔

ملائیشیا ایئر لائن ایشیا کی بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور روزانہ اس پر 37 ہزار مسافر دنیا بھر میں 80 مقامات کا سفر کرتے ہیں۔

اسی بارے میں