’ہم فیس بک اور یو ٹیوب بند کرنے کا سوچ رہے ہیں‘

Image caption سماجی روابط کی ویب سائٹوں پر وزیراعظم اردوغان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں

ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت سماجی روابط کی ویب سائٹوں فیس بک اور یو ٹیوب پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ ویب سائٹیں ان کی حکومت کو خطرات میں ڈال رہی ہیں۔

ان ویب سائٹوں پر وزیراعظم اردوغان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

ان الزامات کے سلسلے میں حال ہی میں ان ویب سائٹوں پر ایک فون کال کی ریکارڈنگ لگائی گئی ہے جس میں مبینہ طور پر وزیراعظم اپنے بیٹے سے اس بارے میں بات کر رہے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں رقوم کیسے چھپائیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کال کی یہ ریکارڈنگ جعلی ہے اور اسے ان کے مخالفین نے بنا کر جاری کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کے مخالفین میں امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم اردوغان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کو سماجی روابط کی ویب سائٹوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ دیں گے۔

وزیرِ اعظم طیب اروغان کئی بار انٹرنیٹ پر تنقید کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سماجی روابط کی ویب سائٹیں معاشرے کے لیے انتہائی بری ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ترکی میں پارلیمان نے ایک ایسے بل کی منظوری دی تھی جس سے حکومت کو انٹرنیٹ پر مواد کو بلاک کرنے کا وسیع تر اختیار حاصل ہوگا۔

Image caption حال ہی میں ان ویب سائٹوں پر ایک فون کال کی ریکارڈنگ لگائی گئی ہے جس میں مبینہ طور پر وزیراعظم اپنے بیٹے سے یہ بات کر رہے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں رقوم کیسے چھپائیں

اس نئے قانون کے تحت ترکی میں ٹیلی کام کا نگراں ادارہ عدالتی وارنٹ کے بغیر کسی بھی ویب سائٹ کو بند کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ دو سال تک صارفین کی معلومات سٹور کر کے رکھیں اور جب بھی حکام ان کا مطالبہ کریں، وہ ان کے حوالے کی جائیں۔

حزبِ اختلاف نے اس نئے قانون کو آزادیِ اظہار رائے پر ضرب کے مترادف قرار دیا ہے۔

ترکی میں انٹرنیٹ پہلے ہی محدود ہے اور ہزاروں ویب سائٹوں کو بلاک کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق، پاکستان بھی انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق درجہ بندی میں 2012 کے مقابلے میں 2013 میں مزید نیچے چلا گیا ہے۔ امریکی غیر سرکاری تنظیم فریڈم ہاؤس کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ ’انٹرنیٹ پر آزادی 2013‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جمہوری طریقے سے اقتدار کی تاریخی منتقلی کے بعد بھی حکومت نے انٹرنیٹ پر سیاسی و سماجی مواد بلاک کرنے کا عمل جاری رکھا ہے جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بظاہر نگرانی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں