امریکی جنرل پر جنسی زیادتی کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فوجی قیادت جنسی تشدد کے واقعات کو روکنے کے بارے میں سنجیدہ نظر آنے کی کوشش کر رہی ہے

امریکی فوج کے ایک جنرل کے خلاف امریکی حکومت کی جونیئر خاتون افسر کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف عوامی مقامات پر جنسی فعل کرنے اور دست درازی کے الزام میں مقدمہ عدالت میں پیش کرنے والی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل جیفری سنکلیئر کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے کوئی جنسی جرم نہیں کیا اور ان کا کورٹ مارشل صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ فوجی قیادت فوج کے اندر جنسی تشدد کے واقعات کو روکنے کے بارے میں سنجیدہ نظر آنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل سنکلیئر کے وکیل نے کہا ہے کہ حکومت ایک شادی شدہ جنرل کو صرف ایک خاتون کپتان کے بیان پر نشانہ بنا رہی ہے جو اس نے جلن اور مایوسی میں دیا ہے، جس میں اس نے تین سال پر محیط جنسی تعلق کا انکشاف کیا تھا۔

سنکلیئر کے وکیل نے رچرڈ شیف سے کہا کہ استغاثہ کے پاس صرف ایک شخص کا بیان ہے جو اپنے زندگی کے ہر موڑ پر ناقابلِ اعتبار ثابت ہوا ہے۔

دونوں طرف سے وکیل جمعے کو فورٹ براگ نارتھ کیرولائنا کی ایک عدالت میں بیان دے کر اس مقدمے کی سمت کا تعین کریں گے۔ اس مقدمے کی سماعت کرنے والی جیوری میں پانچ ٹو سٹار جنرل شامل ہیں جو سنکلیئر پر لگائے جانے والے الزامات کا فیصلہ کریں گے۔

51 سالہ سنکلیئر دو بچوں کے باپ ہیں اور اگر ان پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ان کو زنا بالجبر کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔