’خواتین کی طرف سے بولے گئے جھوٹ‘ کا ہیش ٹیگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو گھنٹے میں یہ ہیش ٹیگ 6،000 سے زیادہ بار استعمال کیا جا چکا تھا

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہیش ٹیگ LiesToldByFemales (خواتین کی طرف سے بولے گئے جھوٹ) امریکہ میں کافی مقبول ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس کی مخالفت بھی ہو رہی ہے۔

منگل کی رات ایک امریکی نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا ’تو موضوع ہے ۔۔۔ خواتین کی طرف سے بولے گئے جھوٹ۔ چلیے اب شروع ہو جاتے ہیں۔‘

دو گھنٹے میں یہ ہیش ٹیگ 6،000 سے زیادہ بار استعمال کیا جا چکا تھا اور ایک دن کے اندر ہی یہ اتنا پھیل گیا کہ اس کی مخالفت میں ایک لاکھ سے زیادہ ٹویٹ کیے جا چکے تھے۔

مردوں نے ٹوئٹر پر اپنی ساتھیوں کی شکایات کی لائن لگا دی۔ جو سب سے عام شکایت سامنے آئی وہ تھی کہ خواتین ناراض نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دھیرے دھیرے غصے سے ابلتی رہتی ہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا ’میں غصہ میں نہیں ہوں۔۔۔‘ کا مطلب دراصل ہوتا ہے ’جب تم سو جاؤ گے تو میں تمھیں قتل کر دوں گی۔‘

بہت سے لوگوں نے اس ہیش ٹیگ کو ’میں ٹھیک ہوں‘ کے ساتھ استعمال کیا۔

مردوں کے جھوٹ

لیکن اچانک اس ہیش ٹیگ کے ساتھ خواتین کے خلاف نفرت آمیز ٹویٹ آنے لگے اور بہت سے صارفین نے ان کی مخالفت کی۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں یہ باتیں قابل اعتراض تھیں۔

اماڈا ماركٹ نے اس ٹرینڈ کے خلاف منفی تبصرے کیے تھے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’خواتین اور مرد دونوں جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ ایسا کرنا انسانی عمل ہے۔ اس کے لیے ’عورتوں‘ کو ہی نشانہ کیوں بنایا جائے۔‘

کچھ ہی گھنٹے بعد ایک مخالف ہیش ٹیگ مردوں کی طرف سے بولے جانے والے جھوٹ (LiesToldByMales) بھی آ گیا۔ لیکن یہ اپنے مدمقابل کے سامنے ٹک نہیں پایا۔

یہ اب تک تقریباً دو ہزار بار ہی ٹویٹ کیا جا سکا ہے۔ اس میں اہم شکایت ذمہ داری سے ڈرنے کا احساس ہے۔

کئی صارفین نے اس ہیش ٹیگ کے ساتھ صرف ’آئی لو یو‘ لکھ کر پوسٹ کیا۔

2010 میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق خواتین کے مقابلے مردوں کے جھوٹ بولنے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔ تین ہزار لوگوں پر کی گئی تحقیق میں معلوم چلا کہ ایک برطانوی مرد ایک دن میں اوسطاً تین بار جھوٹ بولتا ہے، جبکہ عورت دن میں دو بار۔

اسی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ لوگ اپنے ساتھی کے بجائے اپنی ماں سے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔

اسی بارے میں