ملائیشیا تلاش کا عمل تیز کرے: چین

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تلاش کا عمل ملائیشیا اور ویتنام کے درمیان واقع سمندر میں جاری ہے جس میں 40 بحری جہاز اور 34 ہوائی جہاز حصہ لے رہے ہیں

چین نے ملائیشیا سے کہا ہے کہ سنیچر کو لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کے لیے تلاش کے عمل کو تیز کیا جائے۔

ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی ملائیشیا ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئےجنوبی چین کے سمندری علاقے میں لاپتہ ہوگئی تھی۔ اس پر 239 افراد سوار تھے۔

ملائیشیا ائیر لائنز کے طیارے کو لاپتہ ہوئے دو دن سے زیادہ وقت گزر چکا ہے تاہم کثیر الملکی ٹیم جنوبی ویتنام کے سمندر میں اب بھی اس کی تلاش کر رہی ہے۔

تلاش کا عمل ملائیشیا اور ویتنام کے درمیان واقع سمندر میں جاری ہے جس میں ویتنام، ملائیشیا، چین اور دیگر ممالک کے 40 بحری جہاز اور 34 ہوائی جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملاکا سٹیئرٹ اور جنوبی چینی سمندر کے درمیان تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام نے طیارے پر سوار مسافروں کے لواحقین کو سخت صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہونے کا کہا ہے

ادھر ملائیشیا کے سمندری حکام نے کہا کہ سمندر میں ملنے والی تیل کی طہہ کے کیمیائی جائزے سے پتا چلا ہے کہ وہ مسافر طیارے کا تیل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کو ویتنامی بحریہ کے ہوائی جہاز نے سمندر میں ملبے کی نشاندہی کی تھی جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ ملائیشیا کے مسافر جہاز کا ملبہ ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل ویتنامی فضائیہ کے طیاروں نے سمندر میں دو مقامات پر تیل کی تہہ دیکھنے کی اطلاع دی تھی جو ممکنہ طور پر لاپتہ طیارے کے ایندھن کی ہو سکتی ہے تاہم اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

’طیارہ گمنا ایک معمہ ہے‘

ملائیشیا ایئر لائن کے سربراہ نے مسافر طیارے کے لاپتہ ہونے کو ’معمہ‘ قرار دیا ہے۔

اظہرالدین عبدالرّحمٰن نے کہا کہ حکام نے طیارے کے اغوا ہونے کے خدشے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا۔

حکام نے طیارے پر سوار مسافروں کے لواحقین کو سخت صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہونے کا کہا ہے۔

ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی کے سربراہ نے کولالمپور میں صحافیوں کو بتایا کہ’ہم ہر گھنٹے، ہر سیکنڈ سمندر کے ہر کونے کو دیکھ رہے ہیں۔‘

طیارے پر 227 مسافروں میں سے 153 افراد چین کے باشندے تھے جبکہ 38 کا تعلق ملائیشیا، سات انڈونیشیا، سات آسٹریلیا، پانچ بھارت سے اور چار کا تعلق امریکہ سے ہے۔

طیارے کے لاپتہ ہونے کے بارے میں کی جانے والی تحقیقات کا مرکز طیارے پر سوار دو مسافر ہیں جو چوری کردہ پاسپورٹوں پر سفر کر رہے تھے۔ ملائیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ چوری شدہ پاسپورٹوں پر سفر کرنے والے افراد میں سے ایک کی شناخت ہوگئی ہے اور وہ ملائیشیائی شہری نہیں ہے۔

پاسپورٹوں کے حقیقی مالکان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان میں ایک اٹلی اور ایک آسٹریلیا کا باشندہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاسپورٹ تھائی لینڈ میں چوری کیے گئے تھے۔

انٹرپول کے سیکریٹری جنرل رونالڈ نوبل نے ایک بیان میں کہا کہ طیارہ کے لاپتہ ہونے اور پاسپورٹ چوری ہونے کا آپس میں کوئی تعلق ہونے کے بارے میں تشویش کرنا قبل از وقت ہے لیکن’یہ بات قابلِ تشویش ہے کہ دو مسافر چوری شدہ پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے بین القوامی سفر کے لیے طیارے میں سوار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور یہ پاسپورٹ ایسے جن کا اندراج انٹرپول کی فہرست میں شامل ہے۔‘

ملائیشیا ایئر لائن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ایم ایچ 370 نامی پرواز جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب رات دو بج کر 40 منٹ پر کوالالمپور کے ہوائی اڈے سے اڑی تھی اور اسے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے بیجنگ پہنچنا تھا مگر پرواز کے دوران یہ طیارہ لاپتہ ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں