’شامی حکومت فاقے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یرموک کیمپ میں مہاجرین امداد کے منتظر ہیں

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت ’فاقے‘ کو شہریوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ دمشق میں حکومتی فورسز کے ہاتھوں محصور یرموک خیمہ بستی میں اب تک 128 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دمشق کے مضافات میں ہزاروں فاقہ کشی پر مجبور

تنظیم کے مطابق ہزاروں لوگ اب بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں سنگیں انسانی بحران کا سامنا ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ سڑکوں پر خود خوراک تلاش کریں جس کی وجہ سے انہیں سنائپرز کی گولی کا نشانہ بننے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں بھی اس کیمپ کے باہر لڑائی کی اطلاعات ملی تھیں۔

یرموک کی خیمہ بستی میں سترہ سے بیس ہزار فلسیطینی اور شامی مہاجرین مقیم ہیں اور اس علاقے میں یہاں دارالحکومت کی بدترین لڑائیاں ہوئی ہیں۔

یہ علاقہ اپریل 2013 سے بجلی کی سہولت سے محروم ہے۔ یہاں زیادہ تر دواؤں کی عدم فراہمی کے باعث ہسپتال بند ہو چکے ہیں۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کے مشرقِ وسطی میں ڈائریکٹر فلپ لوتھر کا کہنا ہے کہ ’شام کی فوج فاقے کو شہریوں کے خلاف ہتھیار کہ طور پر استعمال کر کے جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔‘

’خاندانوں کے تکلیف دہ بیانات کے مطابق وہ بلیاں اور کتے کھانے پر مجبور ہوئے، اور خوراک کی تلاش میں جانے والوں پر گولیاں چلائیں گئیں۔‘

فلپ لوتھر نے کیمپ کے محاصرے کو شہریوں کی ’اجتماعی سزا‘ قرار دیتے ہوئے شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی اداروں کو فوری طور پر کیمپ میں جانے کی اجازت دی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیمپ کے رہائشیوں نے ایمنٹسی کو بتایا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ سے سبزیاں اور پھل نہیں کھائے

کیمپ کے رہائشیوں نے ایمنٹسی کو بتایا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ سے سبزیاں اور پھل نہیں کھائے، اور یرموک کیمپ کے 60 فیصد لوگ خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

یہ کیمپ 1948 میں میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد فلسطینی مہاجرین کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن سنہ 2012 میں جنگجوؤں کے یہاں آنے کے بعد سے یہ شدید لڑائی کا مرکز بن گیا۔

اس کیمپ میں مقیم ایک لاکھ اسی ہزار فلسطینیوں میں سے بیشتر لڑائی کے بعد یہاں سے نکل گئے تھے تاہم گذشتہ برس جولائی میں جب حکومتی فورسز نے اس کا محاصرہ کیا تو 20 ہزار کے قریب لوگ یہاں پھنس گئے۔

گذشتہ برس اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایک قرار دار منظور کی گئی تھی جس میں شام میں فریقین سے کہا گیا تھا کہ وہ فورا شہریوں کے محاصرے ختم کریں لیکن اس حوالے سے کوئی عملی تبدیلی نہیں آسکی۔

اقوامِ متحدہ نے شام میں شہریوں کے لیے امداد بھیجی تھی تاہم کیمپ میں حکومت کے حامی فلسطینی عسکریت پسندوں اور باغیوں میں لڑائی کے بعد اسے روک دیا گیا۔

اسی بارے میں