’ملزم نے سکائیپ پر بچی کو قتل ہوتے دیکھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عماز قریشی اور یاسمین چوہدری سکائیپ پر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے

ایک برطانوی شہری کے خلاف ناروے میں مقیم اپنی گرل فرینڈ کو ایک کم سِن بچی کو قتل کرنے کا حکم دینے کے الزام میں عدالتی کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔

لندن کے رہائشی عماز قریشی پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی 28 سالہ گرل فرینڈ یاسمین چوہدری کو کہا تھا کہ وہ اپنی 18 ماہ کی بچی کو سبق سکھانے کے لیے پانی سے بھری بالٹی میں ڈُبکیاں دے۔ عماز قریشی کو غصہ تھا کہ وہ جب اپنی گرل فرینڈ سے سکائیپ پر بات کرتے ہیں تو بچی بار بار رو کر ان کی گفتگو میں مخل ہوتی ہے۔

برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق عماز قریشی پر الزام ہے کہ جب ان کی گرل فرینڈ نے اپنی بچی کو بالٹی میں دو مرتبہ ڈبویا تو عماز قریشی یہ سب کچھ براہ راست سکائیپ پر دیکھ رہے تھے۔

یاسمین چوہدری ناروے کے شہر اوسلو میں رہتی ہیں۔بچی کے بے ہوش ہونے پر انھوں نے ایمرجنسی سروس والوں کو بلوایا اور انھیں کہا کہ بچی گِرنے کی وجہ سے بے ہوش ہوئی ہے۔ بچی اگلے دن ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔

عماز قریشی اور یاسمین چوہدری کا تعارف یاسمین کے بھائی نے فروری 2010 میں اس وقت کروایا تھا جب یاسمین لندن آئی ہوئی تھیں۔ دو ماہ بعد یاسمین چوہدری واپس اوسلو چلی گئی تھیں اور تب سے عماز قریشی اور وہ سکائیپ پر ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے لگ گئے تھے۔

اوسلو میں مقدمے کے آغاز پر عدالت کو بتایا گیا جب یاسمین چوہدری اپنی بچی کے ہاتھ پاؤں باندھتی تھی اور اسے زبردستی مرچوں کا پاؤڈر کھلاتی تھی تو عماز قریشی سکائیپ پر براہ راست یہ سب کچھ ہوتا دیکھتے تھے۔

عدالت میں یاسمین قریشی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنی بچی کے ساتھ زیادتی کی مرتکب ہیں، تاہم وہ اس سے انکار کرتی ہیں کہ وہ بچی کی موت کی ذمہ دار ہیں۔

یاد رہے کہ ناروے کی حکومت کے کہنے پر عماز قریشی کو برطانیہ نے ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے ناروے کے حوالے کر دیا تھا جہاں وہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔

عماز قریشی بھی بچی کے قتل کے الزام سے انکار کرتے ہیں۔ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’میرا مؤکل حیران ہے کہ اس پر ایک ایسے ملک میں جرم کرنے کا الزام ہے جہاں اس نے زندگی بھر قدم نہیں رکھا۔‘

ناروے کی پولیس نے گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ پہلے یاسمین چوہدری کا کہنا تھا کہ بچی گِر کر بے ہوش ہوئی تھی لیکن بعد میں انھوں نے اپنا بیان بدل دیا تھا۔ اپنے نئے بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ چونکہ بچی بہت روتی تھی اس لیے عماز قریشی نے انھیں کہا تھا کہ اسے سبق سکھانے کے لیے پانی میں ڈبکیاں لگواؤ۔

بچی کو 10 اکتوبر 2010 کی رات ہسپتال لایا گیا تھا جہاں اسے اگلی صبح مردہ قرار دیا گیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق یاسمین چوہدری پر بنیادی الزام یہ ہے کہ وہ اپنی بچی کے غیر ارادی قتل کی مرتکب ہیں لیکن یاسمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ وہ اپنی بچی کو مار دیں۔ ’لیکن ہمارا مؤقف یہ ہے کہ جب کوئی شخص اتنی چھوٹی عمر کی بچی کو پانی میں اتنی دیر ڈبوئے رکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں بچی کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔‘

استغاثہ کے وکیل نے بچی کا نام بتانے سے انکار کر دیا تھا۔

عماز قریشی شادی شدہ ہیں اور وہ لندن کے علاقے پِنر کے رہائشی ہیں۔وہ پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔