ڈیوڈ کیمرون اسرائیل کے دو روزہ دورے پر

Image caption 2009 میں ڈیوڈ کیمرون نے بطور قائدِ حزبِ اختلاف اسرائیل کا دورہ کیا تھا

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔

اس دورے پر وہ اپنے ہم منصب بنیامن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے مذاکرات کے لیے امریکی منصوبے کی حمایت کریں گے۔

وزیراعظم کیمرون کے ایجنڈے پر اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعلقات اور شام کا مسئلہ ہوگا۔ اس موقعے پر وہ اسرائیلی پارلیمان سے خطاب بھی کریں گے۔

جمعرات کے روز وزیراعظم کیمرون فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کریں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم کیمرون برطانیہ کے روایتی موقف کی تائید کریں گے یعنی اسرائیل کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کرنا اور ساتھ میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی قبضے کی تنقید کرنا۔

مقبوضہ علاقے میں اسرائیل کی یہودی بستیوں کی تعمیر کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی مانا جاتا ہے تاہم اسرائئل اس کی تردید کرتا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے اپنے دو روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششیں ایک اہم موڑ پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں وزیراعظم نیتن یاہو اور صدر محمود عباس سے کہوں گا کہ اب تک انھوں نے جو شاندار قیادت دکھائی ہے، اسے جاری رکھیں اور اس امن کے سفر کے آخری مشکل اقدام بھی کریں۔‘

’اس سب کا نتیجہ بہت زبر دست ہو سکتا ہے۔ ایک مستحکم اور ترقی پسند مشرقِ وسطیٰ جس کے درمیان میں فلسطین اور اسرائیل پُرامن ہمسایوں کی طرح رہیں۔‘

گذشتہ ماہ برطانیہ میں سیلاب کی وجہ سے وزیراعظم کو مشرقِ وسطیٰ کا دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔

2009 میں انھوں نے بطور قائدِ حزبِ اختلاف اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔

اسی بارے میں