’لاپتہ جہاز کے راستہ بدلنے کی اطلاع تصدیق شدہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب تلاش میں مصروف ہوائی اور بحری جہاز جزیرہ نما مالے کے دونوں اطراف اس جہاز کی تلاش کر رہے ہیں

ملائیشیا کی فضائیہ کے سربراہ نے اپنے حوالے سے جاری ہونے والے اس بیان کی تردید کی ہے کہ ملائیشیا کی فضائی کمپنی کا لاپتہ ہونے والا مسافر طیارہ اپنے متعین کردہ راستے سے ہٹ کر آبنائے ملکّا کی جانب پرواز کر رہا تھا۔

رودضالی داؤد نے کہا کہ مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات درست نہیں ہیں تاہم اس بات کا امکان ضرور ہے کہ طیارے نے اپنا راستہ واپسی کے لیے تبدیل کیا ہو۔

سنیچر کے روز ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی کا طیارہ ایم ایچ 370 کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئےجنوبی چین کے سمندری علاقے میں لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس پر 239 افراد سوار تھے۔

مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ملائیشیا کی فضائیہ نے کہا تھا کہ ریڈار سے حاصل ہونے والی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ سنیچر کو لاپتہ ہونے والے ملائیشیا ائیر لائن کے مسافر طیارے نے اپنے مقررہ راستے سے ہٹ کر مغرب کی جانب رخ کیا تھا۔ ان کے مطابق مسافر بردار طیارے کا شہری ہوا بازی کے ادارے سے آخری رابطہ ملائیشیا اور ویتنام کے درمیان ہوا تھا تاہم فضائی فوج کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ریکارڈ سے پتہ چلا ہے کہ جہاز نے مڑنا شروع کر دیا تھا اور غالباً اس کا رخ جزیرہ نما مالے کی جانب تھا۔

یہ جہاز ملائیشیا سے پرواز کرنے کے ایک گھنٹے بعد لاپتہ ہو گیا تھا اور چار روز سے جاری بین الملکی تلاش کے دوران سمندر میں کہیں بھی کوئی ملبہ نہیں ملا۔

ادھر ویتنام میں حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا سے مخصوص معلومات کے حصول تک وہ طیارے کی تلاش کے حوالے سے سرگرمیاں کم کر رہے ہیں۔

اس سے قبل طیارے کے تصدیق شدہ آخری مقام کے حوالے سے متضاد رپورٹیں سامنے آئیں تھیں۔ ملائیشیا کا کہنا تھا کہ وہ تلاش کا دائرہ کار وسیع کر رہے ہیں۔

’امکان ہے کہ طیارہ فنی خرابی کے باعث واپس مڑا‘

اس سے قبل ملائشیا کی پولیس نے بتایا تھا کہ لاپتہ مسافر جہاز پر جو شخص چوری شدہ پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا وہ ایرانی تھا اور اس کا کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلق نہیں تھا۔

پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اٹھارہ سالہ نور محمد مہرداد چوری شدہ پاسپورٹ پر جرمنی جانے کی کوشش میں تھا۔

انٹرپول کے مطابق دوسرا شخص جو چوری شدہ پاپسورٹ پر اس جہاز میں سفر کر رہا تھا اس کا تعلق بھی ایران سے تھا۔

ملائیشیا نے لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کے دائرہ کار کو ملک کے مغربی ساحلی علاقوں تک بڑھا دیا ہے جس کے لیے چین نے بھی دس سیٹیلائٹ تعینات کیے ہیں۔

Image caption ملائیشیا کی پولیس کے سربراہ جنرل خالد ابو بکر کا کہنا ہے کہ دو ایرانی باشندوں کا کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلق ثابت نہیں ہوا

ماہرین کا کہنا ہے کہ چوری شدہ پاسپورٹ پر دو اشخاص کا سفر کرنا سکیورٹی کی ناکامی ہے۔

ملائیشیا کی پولیس کے سربراہ جنرل خالد ابو بکر کا کہنا ہے کہ دو ایرانی باشندوں کا کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب پیرس میں انٹرپول کے سیکریٹری جنرل رونلڈ نوبل نے کہا کہ دوسرا ایرانی باشندہ 29 سالہ دلاور سید محمد رضا تھے۔

دریں اثنا چین نے بھی ملائیشیا کے طیارے کی تلاش میں تعاون دینا شروع کردیا ہے اور اس نے اس نے تلاش کے لیے اپنے 10 سٹیلائٹ تعینات کیے ہیں۔

لاپتہ مسافروں کے لواحقین میں ناامیدی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان لواحقین سے جن میں بیشتر چینی باشندے شامل ہیں، کہا گیا ہے کہ بری خبر کے لیے تیار رہیں۔

ملائیشیا کی قومی فضائی محکمے کے سربراہ اظہرالدین عبدالرحمٰن نے سوموار کو نمائندوں سے بتایا کہ ’جہاں سے طیارہ لاپتہ ہوا تھا وہاں سے تلاش کے دائرے میں توسیع کرتے ہوئے اسے 50 نوٹیکل میل سے 100 نوٹیکل میل کر دیا گیا ہے۔‘

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ ’ملائیشیا کے مغربی ساحل سے دور ملکّا سٹریئٹ (آبنائے) کے بعض علاقوں تک لاپتہ طیارے کی تلاش کی جا رہی ہے۔‘

اسی بارے میں