نیو یارک: عمارتیں دھماکے سے تباہ، 2 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ عمارت ایسٹ ہارلیم کے علاقے پارک ایوینیو کے 116 نمبر گلی میں ہے

امریکی شہر نیو یارک میں حکام کے مطابق دو رہائشی عمارتیں گیس لیک ہونے کے سبب دھماکے سے تباہ ہو گئیں جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 18 زخمی ہو گئے ہیں۔

نیو یارک کے علاقے ایسٹ ہارلیم میں واقع اس عمارت سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں جو پانچ منزلہ رہائشی اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے۔

یہ عمات پارک ایوینو کے 116 نمبر گلی میں ہے جو گرینڈ سینٹرل ٹرین ٹرمینل کی جانب جانے والی پٹڑی کے قریب ہے۔ عمارت گرنے سے تمام ٹرینوں کی آمد و رفت روک دی گئی ہے۔

نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے جائے حادثہ پر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دھماکے سے 15 منٹ قبل گیس فراہم کرنے والی کمپنی کو گیس لیک کرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔

ڈی بلاسیو کے مطابق دھماکے کے نتجے میں 2 عمارتیں تباہ جبکہ کئی اور کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

نیو یارک کے آگ بجھانے کے عملے نے خطرے کو انتہائی سطح پر کر دیا ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ اس نےتین درجن کے قریب فائر سٹیشنز کے 250 کارکن عمارت کے گرنے کے نتیجے میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے بھیجوائے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک مقامی شخص نے میڈیا کو بتایا کہ اس عمارت کے قریب سے گیس کی بو عرصے سے آ رہی تھی

اس علاقے کو دھماکے کے بعد گیس کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں علاقے میں کئی عمارتوں کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا۔

نیویارک پولیس کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ ایک دھماکہ تھا اور ایک عمارت زمیں بوس ہوئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عمارت میں لگی آگ بجھانے کے لیے 168 آگ بجھانے کے عملے کے افراد مصروف ہیں

ایک عینی شاہد نے نیو یارک ڈیلی اخبار کو بتایا ہے کہ اس نے کئی ہفتوں سےگیس کی بو محسوس کی تھی۔

ایک اور رہائشی ایشلی ریویارا نے بتایا کہ انہوں نے ’لوگوں کو کھڑکیوں سے باہر گرتے دیکھا‘ جبکہ ایک اور عینی شاہد نے اخبار کو بتایا کہ انہوں نے دو دھماکوں کی آواز سنی جس نے ان کی دکان کو ہلا کر رکھ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایک شخص کو مقامی ہسپتال میں شدید صدمے کی حالت میں داخل کیا گیا ہے

مچ ابریو نے بتایا کہ ’یہ ایک زوردار دھماکہ تھا جیسا کہ بوم، بوم جس نے پورے بلاک کو ہلا کر رکھ دیا۔ جس سے ایک کھڑکی اڑ کر گری۔ ایسا لگا جیسا کہ (ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے) جڑواں ٹاور والا واقع ایک بار پھر ہوا۔ لوگ گرد و غبار میں اٹے ہوئے تھے۔‘