امریکہ یوکرین کا ساتھ دے گا: صدر اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرائمیا میں اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم میں لوگ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ روس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا یوکرین میں رہنا چاہتے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے یوکرین کے عبوری وزیرِاعظم کا وائٹ ہاؤس میں خیر مقدم کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ روس کے ساتھ یوکرین کے تنازعات میں وہ یوکرین کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن کو متنبہ کیا کہ اگر روس کرائمیا سے اپنی فوج نہیں ہٹاتا تو بین الاقوامی برادری ’اخراجات میں اضافے کے لیے مجبور ہو جائے گي۔‘

اس سے قبل ترقی یافتہ ملکوں کی تنظیم جی-7 کے سربراہوں نے بھی اسی قسم کی دھمکیاں جاری کی ہیں۔

یوکرین کے وزیرِاعظم آرسنیات سنوک نے صدر اوباما سے ملاقات کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یوکرین روس کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’تمام بین الاقوامی معاہدوں اور سمجھوتوں کے برخلاف 21 ویں صدی میں یوکرین کی سرزمین پر روسی بوٹ کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔‘

ادھر کرائمیا میں اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم میں لوگ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ روس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا یوکرین میں رہنا چاہتے ہیں۔

روسی فوج اور روس حامی مسلح افراد نے فروری کے اواخر میں صدر وکٹر یانوکووچ کے صدر کے عہدے سے ہٹنے کے بعد کرائمیا کے اہم مقامات پر قبضہ کر نے کے لیے نکل پڑے۔

واضح رہے کہ کرائمیا یوکرین میں ایک خودمختار خطہ ہے اور نسلی اعتبار سے وہاں کی آبادی بنیادی طور پر روسی ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’امریکہ پر یہ بات پوری طرح سے مترشح ہے اور ہم کرائمیا میں روسی فوجی مداخلت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سختی سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ہم یوکرین اور یوکرین کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ ان کے علاقوں کی سالمیت اور ان کی خود مختار برقرار رہے۔‘

جمعہ کو لندن میں امریکی وزیر خارجہ اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے درمیان ہونے والی بات چیت سے تعلق صدر اوباما نے یہ امید ظاہر کی کہ ’سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پورے معاملے پر از سر نو غور کرنے کا موقعہ ملے گا۔‘

اسی بارے میں