’سعودی شہزادیاں قید میں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شہزادیوں کو شاپنگ کے لیے جانے کی اجازت ہے

اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ انھیں درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سعودی عرب کی متعدد شہزادیوں کی مدد کی التجا کی گئی ہے جو مبینہ طور اپنی رضامندی کے خلاف ایک عمارت میں بند ہیں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ نے بدھ کو ایسی درخواستوں کی موصولی کی تصدیق کی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر میں جمع کرائی جانے والی درخواستوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی کئی بیٹیاں گذشتہ تیرہ برس سے جدہ میں ایک شاہی کمپاؤنڈ میں بند ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے اس قسم کی درخواستوں کو شاذ و نادر ہی منظر عام پر لایا جاتا ہے۔ ہائی کمشنر کے دفتر کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ تصدیق کرتے ہیں کہ انھیں مذکورہ شہزادیوں کو قید میں رکھے جانے کے بارے میں کئی ای میلز موصول ہوئیں ہیں، لیکن ادارے کی جانب سے اس معاملے کو باقاعدہ منظر عام پر لائے جانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

دریں اثنا شاہ عبداللہ کی ایک سابقہ اہلیہ نے کہا ہے کہ عملی طور پر ان کی بیٹیاں جدہ میں قید کی زندگی گزار رہی ہیں اور انھیں آزدانہ گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ہائی کمشنر کے دفتر نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ ان درخوستوں پر باقاعدہ تفتیش کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔ ہائی کمشنر کے دفتر کی اہل کار زیبیئر کیلایا نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا اقوام متحدہ کے افسران ’یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس معاملے میں کوئی باقاعدہ اقدام اٹھایا گیا ہے یا نہیں۔‘

جینیوا میں مقیم سعودی عرب کے مندوب کی جانب سے مذکورہ درخواستوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں ہوا ہے۔

سعودی شہزادیوں کے بارے میں بحث کا آغاز اقوام متحدہ کو بھیجی جانے والی ایک ای میل اور برطانیہ کے روزنامے سنڈے ٹائمز کی ایک خبر کے بعد ہوا تھا۔ خبر کے مطابق شاہ عبداللہ کی دو بیٹیوں ( بیالیس سالہ شہزادی سحر اور اڑتیس سالہ شہزادی جواہر) نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دونوں اور ان کی کئی بہنیں گزشتہ تیرہ سال سے ایک شاہی کمپاؤنڈ میں قید کی زندگی گزار رہی ہیں۔

سنڈے ٹائمز کا مذید کہنا تھا کہ دونوں شہزادیوں کی لندن میں مقیم والدہ (جن کا نام انود الفائض ہے) کی شاہ عبداللہ سے طلاق ہو چکی ہے اور انھوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹیوں کی مدد کرے۔

بدھ کی رات بی بی سی کے پروگرام نیوز نائیٹ میں بات کرتے ہوئے انود الفائض کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹیوں کی حالت بہت خراب ہے۔ ’ دو شہزادیوں نے تو کھانا پینا بہت کم کر دیا ہے اور ان کی صحت بہت گِر چکی ہے۔ ان پر سخت پہرہ ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان کی بیٹیاں واقعی قید میں ہیں، شاہ عبداللہ کی سابقہ اہلیہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ سحر اور جواہر کو شاپنگ کے لیے جانے کی اجازت ہے، لیکن ان کی ہر حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے۔ ان کو ااتنا اختیار بھی نہیں کہ وہ اپنی پسند کی ڈاکٹر کے پاس جا سکیں۔

’اگر میری بیٹیاں کہیں سیر کے لیے جانا چاہیں، تو وہ ایسا نہیں کر سکتیں کیونکہ وہ جہاں بھی جاتی ہیں شاہی محافظ ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یہ محافظ میری بیٹیوں کی حفاظت کے لیے نہیں بھیجے جاتے بلکہ ان کا کام ان پر نظر رکھنا ہے۔ حفاظت کے نام پر ان کو اصل میں حراساں کیا جا رہا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کی بیٹیوں کو ملک سے باہر جانے کی اجازت ہے، شاہ عبداللہ کی سابقہ اہلیہ نے کہا کہ ’ لڑکیوں نے کئی بار اپنے والد سے کہا کہ انھیں ملک سے باہر جانے دیا جائے، لیکن شاہ عبداللہ کا ایک ہی جواب تھا کہ جب تک لڑکیاں شادی نہیں کرتیں اس وقت تک وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتیں۔‘

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں