یوکرین پر امریکہ اور روس کی بات چیت ’ناکام‘

Image caption کرائمیا میں ریفرنڈم سے قبل یہ آخری موقع تھا کہ دونوں وزرائے خارجہ آمنے سامنے تھے

روس کے وزیرِ خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ روس اور امریکہ یوکرین کے بحران پر ’کوئی مشترکہ نظریہ‘ نہیں رکھتے۔

تاہم سرگئی لاوروف نے لندن میں جان کیری سے اپنی اس ملاقات کو ’تعمیری‘ قرار دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ کو روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد اور کرائمیا میں فوج بھیجے جانے سے ’شدید تشویش‘ ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان چھ گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات کے بعد روسی وزیرِ خارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ روس جنوب مشرقی یوکرین پر فوج کشی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

سرگئی لاوروف نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک کرائمیا میں روس سے الحاق کے موضوع پر ہونے والے ریفرینڈم کے نتائج کا احترام کرے گا تاہم جان کیری نے اس ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

امکان ہے کہ اس ریفرنڈم اور یوکرین میں فوجی مداخلت کے باعث روس کے خلاف امریکہ اور یورپی یونین پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔

جان کیری پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر کرائمیا کو روس سے الحاق کرنے دیا گیا تو امریکہ ’انتہائی سنجیدہ اقدامات‘ کرے گا۔

جمعرات کو روس کے اقوام متحدہ میں سفیر نے سکیورٹی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کو بتایا کہ روس یوکرین سے جنگ نہیں چاہتا۔

اسی بارے میں