قدآور لیبر رہنما ٹونی بین وفات پا گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹونی بین نے 2001 میں 50 سال پارلیمان کا رکن رہنے کہ بعد یہ کہہ کر ریٹائرمنٹ لی کہ وہ اب ’سیاست پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں‘

سابق برطانوی وزیر اور بائیں بازو کے رہنما ٹونی بین کا 88 برس کی عمر میں اپنے گھر میں انتقال ہو گیا ہے۔

برطانوی لیبر جماعت سے تعلق رکھنے والے ٹونی بین کافی عرصے سے علیل تھے۔

ٹونی بین نومبر سنہ 1950 میں پہلی بار برطانوی دارالعوام کے رکن بنے تھے اور وہ ہیرلڈ ولسن اور جیمز کیلاہن کی کابینہ میں شامل رہے۔

اپنی جماعت کے نمایاں رہنماؤں میں سے ایک ٹونی بین نے سنہ 1981 میں لیبر جماعت کے نائب سربراہ کے عہدے کے لیے انتخاب بہت کم ووٹوں سے ہارا۔

ان کے خاندان نے بیان میں برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے اہل کاروں اور خدمت پر مامور اہل کاروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے گھر پر ان کی نگہداشت کی۔

پچیس برس کی عمر میں وہ پہلی بار پارلیمان کے رکن بنے جس کے بعد ٹونی بین نے برطانوی دارالامرا کی رکنیت چھوڑ دی جو انھیں اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی تاکہ وہ دارالعوام کے رکن رہ سکیں۔

وہ 50 سال تک رکن پارلیمان رہے اور سنہ 1974 میں وہ ہیرلڈ ولسن کی کابینہ میں وزیرِ صنعت اور بعد میں وزیرِ توانائی بنے جو عہدہ انھوں نے 1976 کے بعد آنے والے وزیرِ اعظم جیمز کیلاہن کے دورِ حکومت میں بھی رکھا۔

اس کے بعد سنہ 1979 میں انھوں نے ڈینس ہیلی کے ساتھ لیبر پارٹی کے نائب سربراہ کے لیے ایک شدید منقسم کرنے والی جنگ لڑی۔

انھوں نے 2001 میں پارلیمان سے ریٹائرمنٹ ان مشہور الفاظ کے ساتھ لی کہ وہ ’اب زیادہ وقت سیاست کرنے میں گزارنا چاہتے ہیں۔‘

ٹونی بین ایک بہت اچھے مصنف بھی تھے جن کی ڈائریوں کی آخری جِلد گزشتہ سال اکتوبر میں شائع کی گئی۔

برطانوی لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ نے انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ہمارے دور کے ایک رہنما تھے۔‘

ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ’ٹونی بین نے ہمیشہ اپنے ذہن کی بات کی اور اپنی روایات کے بارے میں بات کی چاہے آپ ان سے متفق ہوں یا نہ ہوں ہر ایک کو معلوم تھا کہ ان کا موقف کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹونی بین نومبر 1950 میں پہلی بار برطانوی دارالعوام کے رکن بنے تھے اور وہ ہیرلڈ ولسن اور جیمز کیلاہن کی کابینہ میں شامل رہے

ایڈ ملی بینڈ نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں انھوں نے ٹونی بین سے ہسپتال میں ملاقات کی تھی جس کے بعد جب وہ رخصت ہو رہے تھے تو ٹونی نے کہا کہ ’ٹھیک ہے بیٹا دوبارہ مل کر تفصیل سے بات کرتے ہیں جب آپ کے پاس زیادہ وقت ہو گا۔‘

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’مجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ ٹونی بین وفات پا گئے ہیں وہ ایک بہترین مصنف، مقرر، ڈائری لکھنے والے اور جدوجہد کرنے والے تھے جن کی عوامی اور سیاسی خدمات کا ایک زبردست ریکارڈ ہے۔ انھیں سنتے ہوئے کبھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا تھا بے شک آپ ان کی ہر بات سے غیر متفق ہوں۔‘

سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر جن کے ساتھ ان کے شدید اختلافات رہے نے انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹونی بین ایک نادر شخصیت تھے۔ جب میرے ان سے اختلافات تھے تب بھی ان کے لیے میرے دل میں بے انتہا عزت تھی۔‘

ان کی آخری رسومات کے بارے میں اعلان جلد کیا جائے گا۔