یورپی یونین ایک نئی سلطنت قائم کرنا چاہتی ہے: ٹونی بلیئر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تمام فیصلے بشمول سیاسی فیصلے، بنیادی طور پر اخلاقی فیصلے ہوتے ہیں

برطانیہ کے ممتاز سوشلٹ لیڈر ٹونی بین کا اٹھاسی برس کی عمر میں انتقال ہوگیا ہے۔ ٹونی بین چھ دہائیوں سے برطانیہ کے ممتاز بائیں بازو کے رہنما تھے۔

جمہوریت کے حامی، جنگ کے مخالف ، سرمایہ داری نظام کے ناقد ٹونی بین ایک قد آور شخصیت تھے۔ سرمایہ داری نظام ، یورپی یونین، اور لیبر پارٹی کے بارے میں ٹونی بین کے خیالات ان کی اپنی زبانی:

بائیں بازو سے انتہائی بائیں بازو کی

’میں ایک ایسی مثال ہوں جو عمر کے بڑھنے کے ساتھ زیادہ بائیں بازو کی سوچ کی طرف مائل ہوا۔ میں کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو عمر کے پہلے حصے میں تو بائیں بازو کی سوچ رکھتے تھے لیکن آہستہ آہستہ کنزویٹو بن گئے۔ مجھےحکومت میں شامل ہونے کے تجربے نے سکھایا کہ لیبر پارٹی معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے وہ کچھ نہیں کر رہی جس کا وہ دعویٰ کرتی ہے۔‘

سیاسی نظریات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جن لوگوں نے آپ کو منتخب کیا انہوں نے آپ کو نے اپنا ملازم رکھ لیا ہے

’میری ماں نے ایک بار مجھے کہا تھا کہ تمام فیصلے بشمول سیاسی فیصلے، بنیادی طور پر اخلاقی فیصلے ہوتے ہیں۔ یا تو فیصلہ صحیح ہوتا ہے یا غلط۔

اور جب کبھی کوئی مسئلہ سامنے آئے تو آپ کو اپنے سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو کیا یہ صحیح ہوگا یا غلط۔

سوشلزم

’لبیر پارٹی نے پچھلے بیس برسوں میں سرمایہ داری نظام پر تنقید کم کر دی ہے اور سوشلزم کے پرچار میں بھی ڈھیلی پڑگئی ہے جس کی ہمیں بھاری قیمیت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔‘

مالی بحران

’جب لوگ ڈر جاتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو حوصلہ دینے کےلیے اکثر دائیں بازو کی قوتوں کے طرف دیکھتے ہیں اور ہر مالی بحران کےدوران ایسا ہی ہوا ہے۔‘

سرمایہ داری اور عدم مساوات

’معاشرے میں اصل تفریق ان میں ہے جو دولت پیدا کرتے ہیں اور جو دولت کے مالک ہوتے ہیں۔ جو دولت کے مالک ہیں وہ بہت زیادہ طاقتور ہیں اور وہ اسی طاقت کے ذریعے ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو دولت کو پیدا کرتے ہیں۔‘

نیو لیبر پارٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹونی بین بلیئر کو لیبر پارٹی کا ’بدترین رہنما‘ سمجھتے تھے

ٹونی بین نے ٹونی بلیئر کے زمانے میں لیبر پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ان کے خیال میں ٹونی بلیئر لیبر پارٹی کے بدترین رہنما تھے۔ ان کا کہنا تھا سوشلزم کا نام لینے پر شرمندہ ہونا ہی دراصل نیو لیبر پارٹی کی خصوصیت تھی۔

لیبر پارٹی سے علیحدگی

’یہ سچ ہے کہ پارٹی کے اندر بہت بحث ہوئی ہے جس کا سارا الزام مجھ پر لگایاگیا ہے۔ دراصل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی بھی ان لوگوں نے شروع کی تھی جنہوں نے لیبر پارٹی کو چھوڑا، لہٰذا میں لیبر پارٹی کے ٹوٹنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ جب آپ ایک رائے کا اظہار کرتے ہیں اور جب پارٹی کی قیادت کو آپ کی رائے پسند نہ آئے تو آپ کی مذمت کی جاتی ہے۔‘

عراق کی جنگ ایک سانحہ

’تمام جنگیں سفارت کاری کی ناکامی کا نتیجہ ہیں۔ میں نے سویز جنگ کی مخالفت کی اور میں نے فاک لینڈ کی جنگ کی مخالفت کی، میں لیبیا پر بمباری کا مخالف ہوں اور خلیج کی جنگ کا بھی مخالف ہوں۔ بلاشبہ عراق کی جنگ ایک سانحہ تھی۔ میرے خیال میں وہ ایک جرم تھا۔‘

یورپی یونین کی رکنیت

یورپی یونین کا مسلسل ممبر رہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ برطانیہ کی خود مختاری ختم ہو جائے گی۔ یورپی یونین کے بارے میری خیالات اس بات کی غمازی نہیں کرتے کہ میں غیر ملکیوں کا مخالف ہوں۔ میں جمہوریت کا حامی ہوں اور وہ ایک اور یورپی سلطنت قائم کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس کا حصہ بنیں۔

عوامی نمائندہ بننے کی قیمت

عوامی نمائندہ بننا ایک مشکل کام ہے کیونکہ آپ کو ہر وقت ہر کسی سے ملنے کے تیار رہنا ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے آپ کو منتخب کیا ہے انہوں نے آپ کو نے اپنا ملازم رکھ لیا ہے

اسی بارے میں