یوکرین: سلامتی کونسل میں روس تنہائی کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مظاہرین نے روس اور یوکرین کے پرچم اٹھا رکھے تھے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کرائمیا کے روس سے الحاق کے سوال پر اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے خلاف قرارداد کو روس نے ویٹو کر دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے باقی رکن ممالک نے اس ریفرینڈم کے خلاف ووٹ دیا جبکہ چین نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

مغربی ممالک نے ریفرینڈم کی مخالف قرارداد ویٹو کرنے پر روس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ادھر کرائمیا کے مستقبل پر ریفرینڈم سے ایک دن قبل ماسکو میں ہزاروں افراد نے یوکرین میں روس کی دخل اندازی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

روسی دارالحکومت ماسکو میں جمع مظاہرین نے روس اور یوکرین کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور اور وہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’کرائمیا پر روس کا قبضہ روس کی بے شرمی ہے۔‘ ماسکو میں ہی روس کے حق میں بھی ایک چھوٹا سا مظاہرہ ہوا ہے جس میں شامل لوگوں نے صدر پوتن کے حق میں نعرے لگائے۔

کرائمیا یوکرین کے جنوب میں واقع ایک خود مختار علاقہ ہے جہاں ماسکو اپنی فوجی گرفت کو مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماسکو میں ہی روس کے حق میں بھی ایک چھوٹا سا مظاہرہ ہوا

یہاں کے باشندے ایک ریفرینڈم کے ذریعےاس بات کا فیصلہ کرنے والے ہیں کہ آیا وہ روس کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا پھر یوکرین کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔ کرائمیا کے شہری اتوار کو ووٹ ڈالیں گے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ ریفرینڈم کے نتائج کا احترام کرے گاجبکہ امریکہ نے اس ریفرینڈم کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

ادھر جمعے کی رات مشرقی یوکرین میں ریفرنڈم سے قبل یوکرین کے حامیوں اور روس نواز رضاکاروں کے مابین خوں ریز تصادم میں دو افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔ دونوں گروپوں کے درمیان فائرنگ ہوئی جس میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔ یوکرین کی حکومت کا الزام ہے کہ جمعے کے تصادم کے پیچھے روس کے حامیوں کا ہاتھ ہے۔

اطلاعات کے مطابق تشدد کے واقعات خرکیف کے سووبودا سکوائر میں جمعے کی شام کو شروع ہوئے جو بعد میں یوکرین حامی گروپ کے ایک دفتر تک پہنچ گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ روس حامی کارکنون نے مخالف مظاہرین پر حملہ کردیا حالانکہ ان لوگوں نے خود کو رکاوٹوں کے اندر رکھا ہوا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق وہاں فائرنگ کی گئی اور مولوٹو کی بوتلیں پھینکی گئیں۔ یوکرین میڈیا کے مطابق خرکیف کی میئر ہناڈیا کرنیس نے دو افراد کی موت اور پانچ لوگوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی جبکہ خرکیف کے گورنر آئہور بلوتا نے اس واقعے کو اشتعال انگیز قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption خر کیئف کے تصادم میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے

خرکیئف میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد یوکرین کے قائم مقام وزیر اعظم ارسنی یتسینیوک نے فیس بُک پر لکھا کہ ’ ایک پڑوسی ملک کے کرائے کے لوگ یوکرین میں حالات خراب کر رہے ہیں اور بڑے پیشہ وارانہ انداز میں تصادم کروا رہے ہیں۔‘

’یوکرین کے سابق رہنما، جن کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں، وہ منظم طریقے سے یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے میں تصادم کے لیے پیسہ لگا رہے ہیں۔ انھیں روس کی انتہا پسند طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔ یوکرین کے لوگوں کو چاہییے کہ وہ ایسے افراد کی باتوں میں مت آئیں۔‘

ملک کے قائم مقام صدر نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’کریملن کے ایجنٹ‘ ہی ہیں جو مشرقی یوکرین میں ہنگاموں کے لیے پیسہ لگا رہے ہیں۔

روسی حکام نے الزامات سے انکار کرتے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو ’انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی طاقتوں‘ سے ہر صورت بچانے کی کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ کرائمیا سنہ 1954 تک روس کا حصہ تھا اور بحیرہ احمر میں روس کا بحری بیڑہ کرائمیا کے ساحلوں سے زیادہ دور نہیں۔

اسی بارے میں