طیارے کی تلاش پاکستان سمیت 25 ممالک سے مدد کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تلاشی کا پہلے سے پیچیدہ عمل اب مزید مشکل ہوگیا ہے: وزیرِ ٹرانسپورٹ

ملائیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ آٹھ روز قبل لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن جاری ہے جس میں 25 ممالک حصہ لے رہے ہیں۔

ملائیشیا نے اس طیارے کی تلاش کے لیے جن ممالک سے مدد مانگی ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے تاہم پاکستانی سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ طیارے کی پاکستانی حدود میں داخلے کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 گذشتہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کوالالمپور سے بیجنگ کے سفر کے دوران غائب ہوئی تھی اور اس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

اس لاپتہ طیارے پر 239 افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر چینی تھے۔

اس طیارے نے آخری مرتبہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ملائیشیا کے مشرق میں بحیرۂ جنوبی چین کی فضائی حدود میں رابطہ کیا تھا لیکن اس کے غائب ہونے کے سات گھنٹے بعد بھی طیارے سے سیٹیلائٹ کو خودکار طریقے سے سگنل ملتے رہے۔

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے سنیچر کو کہا تھا کہ یہ طیارہ قزاقستان اور جنوبی بحر ہند کے درمیان کہیں بھی ہو سکتا ہے اور اتوار سے تلاشی کا عمل بھی وسط ایشیا سے بحرِ ہند تک زمینی اور سمندری علاقے میں پھیلا دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کوالالمپور میں لاپتہ طیارے کے دونوں پائلٹوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی

تلاشی کے عمل میں شریک تحقیق کار ان تمام ممالک سے ریڈار کا ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن پر سے ایم ایچ 370 نامی اس پرواز کے گزرنے کا امکان ہے۔

ملائیشیا کے حکام نے اس سلسلے میں، قزاقستان، ازبکستان، کرغزستان، ترکمانستان، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، چین، برما، لاؤس، ویت نام، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، آسٹریلیا اور فرانس سے رابطہ کیا ہے۔

ملائیشیا نے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ تلاشی کا پہلے سے پیچیدہ عمل اب مزید مشکل ہوگیا ہے۔

طیارے کا مواصلاتی نظام دانستہ طور پر خراب کیے جانے اور اس کا راستہ جان بوجھ کر بدلے جانے کی تصدیق کے بعد اب پولیس جہاز کے عملے اور مسافروں کے بارے میں بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

ملائیشیا کے ایک اعلیٰ پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو بتایا ہے کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کوالالمپور میں دونوں پائلٹوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔

اطلاعات کے مطابق پولیس 53 سالہ پائلٹ زہری احمد شاہ اور 27 سالہ معاون پائلٹ فارق عبدالحمید کی معاشرتی زندگی اور نفسیاتی پہلوؤں پر بھی نظر ڈال رہی ہے۔

تاہم حکام نے پائلٹوں کے بارے میں کوئی معلومات ظاہر نہیں کی ہیں۔ کوالالمپور میں بی بی سی کے جونا فشر کا کہنا ہے کہ زہری احمد شاہ کے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام سے گھریلو آدمی تھے۔

لاپتہ ہونے والے طیارے پر 153 چینی اور 38 ملائیشین شہریوں کے علاوہ، ایران، امریکہ، کینیڈا، انڈونیشیا، آسٹریلیا، بھارت، فرانس، نیوزی لینڈ، یوکرین، روس، تائیوان اور ہالینڈ کے باشندے سوار تھے۔

اس طیارے کی تلاش میں اب تک چودہ ممالک کے 43 بحری جہاز اور 58 طیارے حصہ لے چکے ہیں لیکن یہ تمام کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں۔

طیارہ پاکستان نہیں آیا

پاکستان میں سول ایوی ایشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ریڈار کے ڈیٹا کے معائنے سے ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر ایئر مارشل (ر) محمد یوسف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نہ تو اس پرواز نے پاکستانی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا اور نہ وہ ریڈار پر نمودار ہوئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طیارے کی پاکستان کی فضائی حدود میں داخلے یا کسی پاکستانی ہوائی اڈے پر اترنے کی کوئی اطلاعات بھی سامنے نہیں آئیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی سول ایوی ایشن اس طیارے کی تلاش میں ملائیشیا کی ہرممکن مدد اور تعاون کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں