چینی کمپنی علی بابا کے حصص امریکہ میں فروخت ہوں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption علی بابا پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ مارکیٹ ہے

چین کی ای کامرس کی بڑی کمپنی علی بابا نے امریکی مارکیٹ میں اپنے حصص فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے وہ زیادہ عالمی کمپنی بن جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2012 میں فیس بک کے حصص جاری ہونے کے بعد سے کسی ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے حصص جاری کرنے کا یہ سب سے بڑا موقعہ ہوگا۔

بعض ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ علی بابا مارکیٹ سے پندرہ ارب ڈالر جمع کر سکے گی۔

تاہم علی بابا نے اب تک یہ ظاہر نہیں کیا کہ کمپنی کس ایکسچینج پر یا کب اپنے حصص جاری کرے گي۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے امریکی کمپنی یاہو کو بھی کافی فائدہ پہنچے گا کیونکہ یاہو بھی علی بابا کے بڑے حصے کا مالک ہے اور اس حصے کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس اقدام سے ہم ایک زیادہ عالمی کمپنی بن جائیں گے اور کمپنی کی شفافیت میں اضافہ ہوگا جو ہمارے مستقبل کے لیے اہم ہے۔‘

علی بابا کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت کیے جا رہے ہیں جبکہ دو روز قبل ہی ایک دوسری چینی کمپنی ویبو (جو کہ ٹوئٹر جیسی سروس فراہم کرتی ہے) نے اعلان کیا ہے کہ وہ پانچ سو ملین تک حصص امریکی منڈی میں جاری کرے گي۔

گذشتہ ستمبر میں علی بابا کے ہانگ کانگ سٹاک ایکسچینج پر حصص جاری کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ کمپنی اپنے حصص نیویارک میں جاری کرے گی۔

علی بابا کے مینجمنٹ ڈھانچے میں سینیئر اہلکار بورڈ آف ڈائریکٹرز کا کنٹرول رکھتے ہیں جو کہ ہانگ کانگ ایکسچینج کےقوانین کی خلاف ورزی ہے۔

علی بابا پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کی ویب سائٹ ہے اور اس کے 500 ملین صارفین کے لیے 800 ملین اشیا برائے فروخت ہیں۔ تاہم کمپنی کو چین سے باہر زیادہ شہرت حاصل نہیں ہے۔

اسی بارے میں