کرائمیا کا آزادی کا اعلان، روس سے الحاق کی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرائمیا کے رہنما نے کہا کہ وہ پیر کو کرائمیا کا روس کے ساتھ الحاق کی درخواست دیں گے

یوکرین کے نیم خودمختار خطے کرائمیا کی پارلیمان نے پیر کو باضابطہ آزادی کا اعلان کر دیا ہے اور روس میں شامل ہونے کے لیے درخواست دی ہے۔

یہ اعلان اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے بعد کیا گیا ہے جس میں تقریبا 97 فی صد ووٹروں نے کرائمیا کے خطے کو یوکرین سے علیحدہ کرکے روس میں شامل ہونے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یوکرین کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان نتائج کو تسلیم نہیں کرتی۔

دوسری جانب امریکہ اور یورپی یونین نے كرائميا کے روس میں شامل ہونے کے لیے کیے جانے والے ریفرینڈم کو یوکرین اور بین الاقوامی قوانین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے غیرقانونی کہا ہے۔

انھوں نے ماسکو کے خلاف پابندی لگانے کا بھی عہد کیا ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین کا کرائمیا علاقہ فروری کے اواخر سے روسی حامی فوجیوں کے قبضے میں ہے۔

ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ روس حامی فوجی ’سیلف ڈیفنس فورس ہیں اور روس کے براہ راست کنٹرول میں نہیں ہیں‘۔

دریں اثنا یوکرین کی پارلیمان نے دارالحکومت کیف میں باضابطہ طور پر 40 ہزار فوجیوں کو جزوی طور پر اکٹھا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وہ ان حالات کو ’جنگی حالات‘ کہتا ہے۔

پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے عبوری صدر اولیکزینڈر ترچینوو نے ریفرینڈم کو بڑے مذاق سے تعبیر کیا اور کہا کہ اسے نہ تو یوکرین اور نہ مہذب دنیا ہی قبول کرے گی۔

یوکرین کے علاقے کرائمیا میں روسی حمایت کے ساتھ یوکرین سے علیحدگی اور روس سے الحاق کے بارے میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اب روس کے خلاف پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔

یوکرین کے نیم خودمختار علاقے کرائمیا میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو روس سے الحاق کے سوال پر ہونے والے ریفرینڈم میں 95.5 فیصد لوگوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

ادھر یوکرین میں حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم ایک ’سرکس پرفارمنس‘ ہے اور وہ اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔

امریکہ اور یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم غیر قانونی ہے جبکہ روس کا موقف ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتا ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری ’تشدد کے خوف‘ تلے کیے گئے ریفرنڈم کو نہیں مانے گی اور روسی اقدامات ’خطرناک اور غیر مستحکم کرنے‘ والے اقدامات ہیں۔

کرائمیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ڈالے گئے ووٹوں میں سے آدھے ووٹوں کی گنتی ہو سکی ہے۔ اس اعلان کے بعد کرائمیا کے رہنما نے کہا کہ وہ پیر کو کرائمیا کا روس کے ساتھ الحاق کی درخواست دیں گے۔

دوسری جانب روسی صدر ویلادیمر پوتن نے کہا ہے کہ وہ کرائمیا کے لوگوں کی رائے کا احترام کریں گے۔

کرائمیا کے وہ رہائشی جو کیئف کی حمایت کرتے ہیں انہوں نے اس ریفرینڈم کا باییکاٹ کیا جبکہ یورپی یونین اور امریکہ نے اس ریفرینڈم کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

کرائمیا کے عوام اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے ریفرینڈم میں حصہ لے رہے تھے کہ آیا یہ خطہ روس سے دوبارہ الحاق کر لے یا پھر مزید خودمختاری کے ساتھ یوکرین کا ہی حصہ رہے۔

اس ریفرینڈم کو مغربی ممالک اور یوکرین نے ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے جبکہ روس اس کی حمایت کر رہا ہے۔

ریفرینڈم کے لیے ووٹنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہوا اور یہ رات آٹھ بجے(برطانوی وقت کے مطابق شام چھ بجے) تک جاری رہی۔

کرائمیا میں پندرہ لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس خطے میں روسی نسل کے افراد کی اکثریت ہے

یوکرین میں روس نواز صدر وکٹر یونوکوچ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے نسلی اعتبار سے روسی اکثریت والے کرائمیا میں روسی فوج نے زمینی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہاں کے لوگ یوکرین کو چھوڑنے اور روس سے الحاق کے حق میں ووٹ دیں گے۔ کرائمیا کی تاتاری آبادی نے ریفرینڈم کا بائیکاٹ کیا۔

کرائمیا کے دارالحکومت سمفروپول اور تاتار اکثریت والے شہر بخش سرائے میں پولنگ مراکز پر بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے پہنچے تاہم بی بی سی نے جس تاتاری فرد سے بھی بات کی اس کا کہنا تھا کہ وہ ووٹنگ میں شریک نہیں ہوگا۔

بیلٹ پیپر پر عوام سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا وہ کرائمیا کا روس سے الحاق چاہتے ہیں؟ ایک اور سوال میں یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ آیا یوکرین میں سنہ 1992 کی آئینی شکل بحال ہونی چاہیے کیونکہ اس صورت میں خطے میں کو مزید خودمختاری مل سکتی ہے۔

اس خطے میں روسی نسل کے افراد کی اکثریت ہے اور ان میں سے بیشتر کے روس سے الحاق کے حق میں ووٹ دینے کی توقع ہے۔

کرائمیا کے روس نواز وزیراعظم سرگئی اکسیونوف نے ووٹ ڈالنے کے بعد انٹرفیکس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا ’جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ آزادانہ طریقے سے ووٹ دے رہے ہیں۔ پولنگ مراکز میں کوئی مسائل نہیں ہیں اور مجھے نہیں دکھائی دے رہا کہ کسی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔‘

سواستوپول میں ایک مصروف پولنگ مرکز میں موجود ایک معمر خاتون نے ریفرینڈم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے وطن روس جانا چاہتی ہوں۔ مجھے اپنی ماں سے ملے ایک طویل عرصہ ہوگیا۔‘

تاہم ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کرائمیا کو یوکرین کے ساتھ مگر مزید خودمختار صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص سرہی رشتنک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں کرائمیا کے پاس مکمل خودمختاری ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے مالی معاملات کی خود دیکھ بھال کر سکے۔ میں تو آزادی کا حامی ہوں۔‘

اسی بارے میں