سعودی عرب میں سینکڑوں کتابوں پر پابندیاں

سعودی پولیس
Image caption سعودی عرب میں پولیس ریاست کی قدامت پسند روایات کو نافذ کرنے میں مدد کرتی ہے

سعودی حکام نےسینکڑوں کتابوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن میں مشہور فلسطینی شاعر محمد درویش کی کتابیں بھی شامل ہیں۔

یہ پابندیاں حکومت کی اس مہم کے تحت عائد کی گئی ہیں جس میں ان کتابوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں قدامت پسند سعودی حکومت کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔

2011 میں عرب ممالک میں تبدیلی کی لہر کے بعد سعودی عرب نے ناراض عناصر کے خلاف کارروائی کی تھی۔ عرب دنیا میں تبدیلی کی اس لہر سے سعودی عرب تو کافی حد تک بچا رہا اور اس نے اخوان المسلمین اور دیگر اسلامی گروپوں کے خلاف سخت موقف اختیار کر لیا۔سعودی عرب ان تنظیموں کو اپنی سکیورٹی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔

اتوار کو ایک مقامی اخبار نے لکھا تھا کہ ریاض میں ہونے والے عالمی کُتب میلے میں نمائش کے دوران 420 کتابوں کی دس ہزار کاپیاں ضبط کر لی گئیں۔

ایک مقامی نیوز ویب سائٹ نے خبر دی ہے کہ سعودی مذہبی پولیس نے عظیم عرب شاعر کہے جانے والے مشہور فلسطینی شاعر درویش کی کتاب کے ان پیرا گراف پر احتجاج کیا تھا جو بقول ان کے توہین کے زمرے میں آتے ہیں۔

مذہبی پولیس نے منتظمین پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کی تمام کتابوں کو واپس لیں۔

سعودی عرب میں مذہبی پولیس عموماً ریاست کی قدامت پسند روایات کو نافذ کرنے کا کام کرتی ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں کتابوں پر پابندی ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

سعودی روزنامے ’گیزیٹ‘ کے مطابق اس کتب میلے کی انتظامی کمیٹی نے عبداللہ العلامی کی کتاب ’وین وِل سعودی وومن وِل ڈرائیو اے کار‘یعنی سعودی خواتین کار کب چلائیں گی پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جہاں گھر سے باہر خواتین کو سر سے پیر تک برقعہ پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور کار چلانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

دیگر جن کتابوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں ’ہسٹری آف حجاب‘ اور ’فیمن ازم اِن اسلام‘ بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن عزیزہ یوسف کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے ان کتابوں کو مفت میں پبلسٹی مل گئی جن پر پابندی عائد کی گئی ہے اور بہت سے لوگوں نے ان کتابوں کی انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی خواتین کو کار چلانے کی اجازت نہیں ہے

یہ پابندی قطر اور تین خلیجی ریاستوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان کشیدگی کے درمیان لگائی گئی ہے جنہوں نے اس ماہ کے آوائل میں دوحا سے اپنے سفارت کار واپس بلا لیے تھے۔

گوگل کے سابق ایگزیکیٹو اور ’ریکولیشن‘ کے مصنف وائل غنیم کی کتاب پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے جنہوں نے 2011 کی بغاوت میں سعودی اتحادی حسنِ مبارک کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

چار مارچ کو شروع ہونے والے اس عالمی کتب میلے کے منتظمین نے اس میلے سے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ کوئی بھی کتاب جو اسلام کے خلاف ہوگی یا پھر ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھی جائے گی اسے ضبط کر لیا جائےگا۔

یہ کارروائی ملک کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے ’دہشت گردگروپوں‘ کی فہرست جاری کیے جانے کے بعد کی گئی ہے جس کے بعد تجزیہ کاروں نے خبردار کیا تھا کہ اب مزید شہری آزادیوں کو کچلا جائے گا۔

اسی بارے میں