بی بی سی نے لندن سکول آف اکنامکس سے معافی مانگ لی

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ’دورے سے پہلے کسی بھی موقع پر طلبا کو یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ تین افراد پر مشتمل بی بی سی کی ٹیم اس دورے کو ڈاکومینٹری بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔‘

بی بی سی نے شمالی کوریا کے بارے میں ایک دستاویزی فلم نشر کرنے کے سلسلے میں لندن سکول آف اکنامکس اور اس کے ایک طالبِ علم سے معافی مانگی ہے۔

بی بی سی کے نگراں ادارے بی بی سی ٹرسٹ کی ایک تفتیش میں یہ ظاہر ہوا ہے کہ جب بی بی سی کے رپورٹرز طلبہ بن کر شمالی کوریا میں یونیورسٹی کے ایک دورے پر گئے اور خفیہ ریکارڈنگ کی تو بی بی سی کی ادارتی پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی۔

بی بی سی نے طالب علموں کو خطرے میں ڈالا: ایل ایس ای

تفتیش میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگرچہ اس پروگرام کو بنانے کے جواز موجود تھے تاہم بی بی سی نے حقیقی طلبہ کو دورے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کیں تاکہ فلم سازی کے حوالے سے درست فیصلہ کر سکیں۔

بی بی سی ٹرسٹ نے بی بی سی کی ٹیم کی جانب سے ویزا درخواستوں پر لندن سکول آف اکانومکس کے پتے دینے کی بھی تنقید کی اور کہا کہ اس اقدام سے لندن سکول آف اکنامکس کو غیر منصافہ طور پر اس پروجیکٹ سے منسلک کیا گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال بی بی سی کے رپورٹر جان سوینی پی ایچ ڈی کے طالب علم کا روپ دھار کر یونیورسٹی کی سوسائٹی کے ساتھ شمالی کوریا گئے تھے اور انہوں نے خفیہ طور پر فلم سازی کی جسے بی بی سی کے پینوراما پروگرام میں نشر کیا گیا۔

لندن سکول آف اکنامکس(ایل ایس ای) کا کہنا تھا انہوں نے دورے سے پہلے اپنے کام کے بارے میں طلبا کو مکمل معلومات نہیں دی تھیں، اس وجہ سے انہوں نے طالب علموں کی خطرے میں ڈالا۔

دوسری طرف بی بی سی کا کہنا تھا کہ طلبا کو ان کے گروپ میں ایک صحافی کی موجودگی اور ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ لیکن ایل ایس ای کا کہنا تھا کہ انہیں’اس حوالے سے معلومات کی بنیاد پر رضامندی ظاہر کرنے کے لیے مکمل معلومات نہیں دی گئیں تھیں‘ اور انہیں ’خطرے میں ڈالا گیا‘۔

یونیورسٹی کی طرف سے طلبا اور سٹاف کو بھیجے گئے ایک ای میل میں کہا گیا کہ شمالی کوریا کے دورے میں بی بی سی کے لیے کام کرنے والے دو اور افراد بھی موجود تھے۔

ای میل کے مطابق’دورے سے پہلے کسی بھی موقع پر طلبا کو یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ تین افراد پر مشتمل بی بی سی کی ٹیم اس دورے کو ڈاکومینٹری بنانے کے لیے کور(cover) کے طور پر استعمال کرے گی اور یہ ڈاکومینٹری پینوراما پر دکھائی جائے گی۔‘

ایل ایس سی کا موقف ہے کہ اگر شمالی کوریا سے نکلنے سے پہلے اس کا پتہ چل جاتا تو طلبا کو شدید خطرہ ہو سکتا تھا۔

اسی بارے میں