تیل بردار جہاز ’مارننگ گلوری‘ پر امریکی بحریہ کا قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بی بی سی کی رعنا جواد نے کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس قدم سے باغیوں کے کنٹرول والی بندرگاہوں سے غیر قانونی طور پر تیل حاصل کرنے میں روک لگے گی

پنٹاگون نے کہا ہے کہ امریکہ نے ’مارننگ گلوری‘ نامی تیل بردار جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے جو لیبیا میں باغیوں کے زیرِ قبضہ ایک بندرگاہ سے پٹرول لے کر کھلے سمندروں میں نکلا تھا۔

پنٹاگون کے ترجمان ریئر ایڈمیرل جون کربی نے کہا کہ امریکی بحریہ نے قبرص کے جنوب میں بین الاقوامی سمندری حدود میں اس جہاز پر حملہ کیا۔

واضح رہے کہ لیبیا کی مشرقی بندرگاہ سدرہ سے ’مارننگ گلوری‘ نامی یہ جہاز بحری پابندیوں کے باوجود نکلنے میں کامیاب ہو گيا تھا اور اسی بات پر لیبیا کی حکومت نے وزیر اعظم علی زیدان کو گذشتہ ہفتے برخاست کر دیا تھا۔

سوموار کو ایک دوسرے واقعے میں بن غازی شہر میں موجود فوجی ٹھکانے پر حملے میں متعدد فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب فوجی آفیسرز گریجوئیشن کی ایک تقریب سے نکل رہے تھے کہ ایک بم پھٹ گیا۔

یاد رہے کہ مارننگ گلوری پہلا جہاز ہے جس نے باغیوں کے زیر قبضہ کسی بندرگاہ سے تیل لوڈ کیا ہے۔ طرابلس میں حکومت کے خلاف جولائی 2013 سے بغاوت جاری ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ تیل بردار جہاز کہاں جا رہا تھا۔

ایڈم کربی نے کہا کہ اس آپریشن کا حکم صدر براک اوباما کی جانب سے آیا تھا اور اس میں جہاز کے عملے یا کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مارننگ گلوری‘ لیبیا کی حکومت کی نیشنل آئل کمپنی کا تیل لیے جا رہا تھا۔ یہ جہاز اور اس کا سامان غیرقانونی طور پر حاصل کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ اب اسے لیبیا کی بندرگاہ کو لوٹا دیا جائے گا۔

یہ جہاز شمالی کوریا سے روانہ ہوا تھا لیکن پیونگ یانگ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد اس کا ریجسٹریشن رد کر دیا گيا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک مصری کمپنی کی عمل داری میں یہ سمندر میں سرگرم تھا۔

دارالحکومت طرابلس میں بی بی سی کی رعنا جواد نے کہا کہ امریکہ کے اس قدم سے باغیوں کے کنٹرول والی بندرگاہوں سے غیر قانونی طور پر تیل حاصل کرنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 میں صدر معمر قذافی کے خلاف بغاوت کی حمایت کے بعد امریکہ نہیں چاہتا کہ لیبیا کسی طرح بھی ناکام ملک بن جائے۔

بہر حال ابھی تک لیبیا کی حکومت باغی جماعتوں پر پوری طرح سے کنٹرول حاصل نہیں کرسکی ہے جنھوں نے کرنل قذافی کو ہٹانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اسی بارے میں