ملائیشیا:چینی لواحقین کو پریس کانفرنس سے نکال دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملائیشیا کے دارالحکومت میں چینی مسافروں کے رشتہ داروں میں شدید بے چینی دیکھی گئی

ملائیشیا کی گمشدہ پرواز ایم ایچ 370 کے چینی مسافروں کے لواحقین کو ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سامنے سے گھسیٹ کر دور کر دیا گیا۔

کوالالمپور میں اس پریس کانفرنس کے دوران بہت زیادہ بدنظمی دیکھی گئی اور چینی مسافروں کے رشتہ داروں کو چینی میڈیا سے بات کرنے سے روک دیا گیا جب انہوں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کو بھی ان رشتہ داروں سے دور دھکیلا گیا جو اس معاملے سے نمٹنے کے طریقے کے خلاف بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ اس طیارے کی تلاش کے لیے زیرِ تفتیش علاقہ اس وقت تقریباً آسٹریلیا کے رقبے جتنا بڑا ہو چکا ہے اور تلاشی مہم میں 25 ممالک حصہ لے رہے ہیں اور طیارے کی تلاش وسط ایشیا میں قزاقستان سے لے کر جنوب میں بحرِ ہند تک جاری ہے۔

کوالالمپور سے بیجنگ جانے والی یہ پرواز آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوئی تھی جس پر 239 افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر چینی تھے۔

اب اس پرواز کو لاپتہ ہوئے بارہ دن گزر چکے ہیں اور اس کے مسافروں کے لواحقین کی پریشانی اور بےچینی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

بدھ کو ان میں سے ایک درمیانی عمر کی خاتون رشتہ دار چیخ رہی تھیں کہ ’یہ روزانہ مختلف پیغامات دیتے ہیں۔ پرواز اب کہاں ہے؟ ہمارے رشتہ داروں کو ڈھونڈو! طیارے کو ڈھونڈو!‘

ملائیشین حکومت نے بعد میں کہا کہ یہ مناظر افسوسناک ہیں اور اس معاملے میں انہوں نے تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے یہ کہتے ہوئے کہ ’ہم ان لوگوں کی تکلیف کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

اس بریفنگ کے دوران قائم مقام وزیرِ ٹرانسپورٹ نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ لاپتہ ہونے والا ملائیشین مسافر طیارہ مالدیپ میں دیکھا گیا تھا۔

مالدیپ کے جزیرے کوداہونوادو کے ایک مقامی کونسلر نے بی بی سی کو بتایا کہ دس افراد نے ایک بڑے طیارے کو اس کے گمشدہ ہونے کے کچھ گھنٹے بعد دیکھنے کی بات کی تھی۔

ملائیشیا کے نگران وزیرِ ٹرانسپورٹ حشام الدین حسین نے بتایا کہ حکام نے گمشدہ طیارے کے تمام مسافروں اور عملے کے بارے میں تحقیقات کی ہیں لیکن تاحال انھیں کوئی قابلِ ذکر معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں روس اور یوکرین کے علاوہ دیگر تمام ممالک سے مسافروں کے بارے میں معلومات مل گئی ہیں۔ اس طیارے پر دو یوکرینی اور ایک روسی شہری سوار تھا۔‘

ملائیشیا کی پولیس کے سربراہ خالد ابو نے کہا کہ طیارے کے پائلٹ زہری احمد کی رہائش گاہ سے ملنے والے ’فلائٹ سیمولیٹر‘ سے کچھ ڈیٹا 3 فروری حذف کیا گیا تھا تاہم انھوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ تحقیقات کے سلسلے میں اہم نکتہ ہے یا نہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کار اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک کوئی بات ثابت نہیں ہو جاتی تب تک پائلٹ معصوم ہیں اور یہ ڈیٹا شاید جگہ خالی کرنے کے لیے حذف کیا گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس طیارے کی تلاش کے لیے زیرِ تفتیش علاقہ اس وقت تقریباً آسٹریلیا کے رقبے جتنا بڑا ہو چکا ہے

ملائیشین حکام نے کہا ہے کہ وہ چین میں طیارے کے بارے میں معلومات کے منتظر خاندانوں سے رابطوں کے لیے ایک ٹیم بیجنگ بھیجیں گے۔ اس لاپتہ طیارے پر سوار 239 افراد میں سے بیشتر چینی تھے۔

مالدیپ میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایسی اطلاعات کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں ایک جزیرے کوداہونوادو کے قریب ایک کم بلندی پر پرواز کرتے طیارے کو دیکھا گیا تھا جس کا رنگ اس لاپتہ طیارے سے ملتا جلتا بتایا گیا ہے۔

کوداہونوادوا جزیرہ دارالحکومت مالے کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور یہ 8 مارچ کو مقامی وقت کے مطابق 6 بج کر 15 منٹ پر ہوا۔

مالدیپ کی قومی ڈیفنس فورس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریڈار پر کچھ بھی نظر نہیں آیا مگر پھر بھی وہ جس قدر مدد ممکن ہوئی فراہم کریں گے۔

سری لنکا سے بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیویلینڈ کا کہنا ہے کہ اگر ان اوقات کو دیکھا جائے تو طیارہ عام رفتار سے کم پر اڑ رہا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption منگل کو ایم ایچ 370 کے مسافروں کے چند لواحقین نے حکام کی جانب سے جلد درست معلومات نہ ملنے کی صورت میں بھوک ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی تھی

ملائیشین ایئر لائن کے لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے چین نے نئے علاقوں میں کوششیں شروع کی ہیں اور تلاشی کے علاقے کا دائرہ ایک مرتبہ پھر وسیع کرتے ہوئے خلیجِ بنگال کے جنوب مشرقی حصے اور انڈونیشیا کے مغرب میں نو بحری جہاز بھیجے ہیں۔

اس طیارے نے آخری مرتبہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ملائیشیا کے مشرق میں بحیرۂ جنوبی چین کی فضائی حدود میں رابطہ کیا تھا لیکن اس کے غائب ہونے کے سات گھنٹے بعد بھی طیارے سے سیٹیلائٹ کو خودکار طریقے سے سگنل ملتے رہے۔

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے سنیچر کو کہا تھا کہ یہ طیارہ قزاقستان اور جنوبی بحر ہند کے درمیان کہیں بھی ہو سکتا ہے اور اتوار سے تلاشی کا عمل بھی وسط ایشیا سے بحرِ ہند تک زمینی اور سمندری علاقے میں پھیلا دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ملائیشیا کے حکام نے کہا کہ لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کے مواصلاتی نظام کو جان بوجھ کر ناکارہ بنایا گيا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ طیارے کے پائلٹوں اور عملہ کے بارے میں جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں